انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 139

۱۳۹ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ایک شخص جو ہزار ہا میل دور رہتا ہے نہ کبھی ربوہ آیا، نہ ہی تاریخ احمدیت سے پوری طرح واقف، اس کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرک کی اہمیت جب تک پوری طرح بٹھا نہ دی جاتی میرے نزدیک انہیں تبرک بھجوانا درست نہیں تھا۔اس لئے میں نے انہیں ایک لمبا سا خط لکھا اور انہیں یہی نکتہ سمجھایا کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تبرک مانگ رہے ہو۔اس میں برکتیں بھی بڑی ہیں مگر یہ بھی نہ بھولو کہ اس کی قیمت اتنی ہے کہ ساری دنیا کے سونے اور ساری دنیا کی چاندی اور ساری دنیا کے ہیرے اور جواہرات بھی اگر اس کے مقابل رکھے جائیں تو ان کی وہ قیمت نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں میں سے ایک ٹکڑا کی قیمت ہے اس لئے تم ایک بڑی ذمہ داری لے رہے ہو۔ذہنی طور پر ، روحانی طور پر اور اخلاقی طور پر اپنے آپ کو اس کا اہل بناؤ۔یہ مضمون تھا اس خط کا جو میں نے انہیں لکھوایا اور ان سے انتظار کروایا تا کہ جب ان کی یہ روحانی پیاس اور بھڑ کے اور ان کے دل میں ذمہ داری کا پورا احساس بیدار ہو جائے اس وقت وہ تبرک ان کو بھیجا جائے۔پندرہ بیس دن ہوئے وہ تبرک ان کو بھجوایا گیا اور مجھے ابھی گھوڑ انگلی میں ان کی تاریلی ہے کہ وہ تبرک مجھے مل گیا ہے۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔پس خدائے عزیز کے ساتھ تعلق رکھنے والے عزت کے ایسے مقام کو حاصل کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن قرآن کریم کی طرف منسوب ہونا اور پھر عزت کی بجائے ذلت کے مقام پر کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ایسا شخص زبان پر تو قرآن کریم کا نام لاتا ہے لیکن دل سے اسے دھتکارنے والا اور پرے کرنے والا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اس آسمانی کامل اور مکمل صحیفہ کو اتارنے والا العزیز ہے۔وہ ایسی طاقت کا مالک ہے کہ دنیا کی ساری طاقتیں اکٹھی ہو کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔وہ اس کی مخلوق ہیں۔وہ اندر اور باہر سے ان کو جاننے والا ہے۔وہ ان کی قوتوں اور استعدادوں کو اس لئے جاننے والا ہے کہ وہ خود اس کی پیدا کردہ ہیں۔تو وہ اس کے مقابلہ میں کیسے کھڑی ہوسکتی ہیں؟ اور ہمیں یہ بتایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی اس الکتاب پر پورا عمل کرو گے اور اس کی اطاعت اس طرح کرو گے جیسا کہ اطاعت کا حق ہے تو پھر خدائے عزیز تمہیں عزت کے بلند مقام