انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 117
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۱۷ سورة الصفت ہیں۔ہم میں بڑی عظمت پائی جاتی ہے، ہم بڑے لوگ ہیں، ہم صاحب جبروت ہیں، ہمیں خدائے واحد کی ضرورت نہیں کیونکہ جو الہ ہم نے بنائے ہیں وہ ہمارے ہیں اور ہمارے بنائے ہوئے الھوں کے مقابلہ میں جس اللہ کو پیش کیا جاتا ہے چونکہ وہ الهَتِنا میں شامل نہیں وہ ہمارا بنایا ہوا رب نہیں ہے اس لئے ہم اس کی توحید کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں پھر ہم اسے قبول کریں بھی تو ایک شاعر اور مجنون کے کہنے پر جو جھوٹی بات کو خوبصورت پیرایہ اور احسن رنگ میں پیش کر رہا ہے اور اسے کوئی سحر ہو گیا ہے کوئی جن چمٹا ہوا ہے یہ بڑا حقیر انسان ہے جو باتیں کر رہا ہے گو وہ بظاہر دلوں کو موہ لینے والی ہیں لیکن ایسے حقیر انسان کے منہ سے ایسی باتیں نہیں نکل سکتیں اس لئے معلوم ہوا کہ کوئی جن اس کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور اسے اس قسم کی شاعرانہ باتیں سکھا رہا ہے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے شرک کی حقیقی اور اصلی وجہ کی نشاندہی کی ہے اور فرمایا کہ وہ تو حید کو اس لئے ٹھکراتے ہیں کہ وہ کتارِكُوا الهَيْنا کے لئے تیار نہیں ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ اپنے علم پر ہم اس لئے بھروسہ رکھتے ہیں کہ یہ علم ہمارا ہے ہم دنیوی جاہ و جلال پر اس لئے اتنا بھروسہ رکھتے ہیں ( جتنا کہ ہمیں خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے ) کہ یہ جاہ وجلال اور یہ عظمتیں ہماری ہیں اور ہماری طرف منسوب ہونے والی ہیں یہ مادی اسباب اور مال و دولت جس کے بل بوتے پر ہم دنیا میں اپنی خدائی قائم کرنا چاہتے ہیں۔یہ کسی غیر کے نہیں بلکہ ہمارے ہیں۔ہم الهتنا یعنی اپنے خداؤں کو چھوڑ کر خدائے واحد کی پرستش کرنے کے لئے تیار نہیں۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ ابا اور استکبار کے نتیجہ میں شرک جلی بھی پیدا ہوتا ہے اور شرک خفی بھی پیدا ہوتا ہے۔بعض لوگ تو کھلم کھلا خدائے واحد کو خدائے واحد قرار نہیں دیتے اور نہ اسے تسلیم کرتے ہیں بلکہ وہ اس کے ساتھ سورج یا چاند یا بعض درختوں ( ہندو لوگ بڑ کے درخت کی پوجا کرتے ہیں ) یا بعض جانداروں (جیسے سانپ) کی پرستش کرتے ہیں یا اپنی دنیوی عزت، وقار اور جاہ و جلال یا اس علم کو جو انہوں نے اپنی قوتوں کے نتیجہ میں حاصل کیا ہوتا ہے سب کچھ سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ سب کچھ حقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے لیکن وہ اس چیز کو سجھتے نہیں۔وہ اپنے