انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 116
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث 117 سورة الصفت آسمان سے پنجابی کا ایک محاورہ ہے پھورنا۔وہ پھور یا بھی نہیں پوری طرح زمین لیکن خدا نے مجھے کہا آپ کو بھی کہا ہر شخص کو کہا مخاطب کر کے کہ تم تھوڑا سا علم پہلے آسمان کا حاصل کر کے میرے خلاف کھڑے ہو جاتے ابا اور استکبار کرتے ہو۔اعلان کر دیتے ہو کہ ہم زمین سے خدا کا نام اور آسمانوں سے اُس کے وجود کو مٹا دیں گے۔تم تو اس کی انتہا بھی نہیں جانتے اور یہ تو پہلا آسمان ہے جو دوسرا ، تیسرا، چوتھا، پانچواں ، چھٹا اور ساتواں آسمان ہے اُس کے جو روحانی پہلو ہیں اُن کے متعلق قرآن کریم میں ، احادیث میں کچھ ذکر آتا ہے۔جو اُس کے مادی پہلو ہیں۔اثرات۔کیا اثر ان کے ہورہے ہیں وہ ابھی محض تھیوری ہے خدا کرے ہمیں پانچ دس ایسے سائنس دان بھی مل جائیں جو ڈاکٹر سلام صاحب کی طرح اپنے ڈیسک پر بیٹھ کر دوسرے تیسرے آسمان کے متعلق تھیوریز بنایا کریں۔فارمولے۔جو آج سے پچاس سال بعد یا سو سال بعد یا ڈیڑھ سو سال کے بعد انسان کی عملی تحقیق جب وہاں پہنچتے تو حیران ہو کہ ڈیڑھ سو سال پہلے ایک احمدی کے دماغ کو خدا تعالیٰ نے وہاں تک پہنچا دیا تھا اور آج ہم وہاں پہنچتے رہے ہیں۔خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۴۰۸، ۴۰۹ آیت ۳۷،۳۶ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُم لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَسْتَكْبِرُونَ وَيَقُولُونَ آبِنَا لَتَارِكُوا الهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی تمام راہیں تکبر کے چوراہے سے پھٹتی ہیں اور اس شجرہ خبیثہ کی جڑیں استکبار کے فوق الارض میں معلق ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ وَ يَقُولُونَ أَبِنَّا لَتَارِكُوا الهَتِنَا لِشَاعِرِ مجنون یعنی جب کبھی ان سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں صرف وہی پرستش کے لائق ہے انسان کو صرف اسی کے سامنے عاجزی اور انکسار کے ساتھ جھکنا چاہیے۔وہی تمام فیوض کا منبع ہے صرف اسی سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے وہی تمام زندگی اور حیات اور زندگی کے تمام لوازمات کا سر چشمہ ہے کسی قسم کی کوئی زندگی اور حیات اس کے سوا کسی اور جگہ سے حاصل نہیں کی جاسکتی يَسْتَكْبِرُونَ تو آگے سے وہ اپنے کو صاحب عظمت اور صاحب جبروت قرار دیتے ہوئے کہتے