انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 2

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة الروم اور ہم نے شعاعوں کے متعلق یہ بھی پتہ کر لیا کہ کتنے لائٹ ایرز میں، یعنی کتنے ایسے سالوں میں کہ جس میں شعاعوں کی ایک سال کی رفتار جو ہے (اسے لائٹ ایرز (Light years) کہتے ہیں) وہ روشنی یہاں تک پہنچی وغیرہ وغیرہ اور اس سے جو علم حاصل ہوا جس سے ہمیں فائدہ پہنچ رہا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح چاند اور سورج کی روشنی ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے اندر بعض خاص خصوصیتیں پیدا کرتی ہے اسی طرح ستاروں کی روشنی بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج گندم کا دانہ جس میں مثلاً تعداد تو نہیں یاد کسی کو پتہ بھی نہیں ، گنا بھی نہیں جاسکتا ہے، لیکن مثال دے دیتے ہیں، جس کی پرورش میں ایک ہزار ستاروں نے دودھ پلایا۔وہ اس دانہ سے مختلف ہے۔جو آج سے پانچ ہزار سال پہلے پیدا ہوا تھا اور جس کی پرورش میں صرف نوسوستاروں کی روشنی کا حصہ تھا۔عقلاً اس میں اختلاف ہونا چاہئے تھا کیونکہ زیادہ ستاروں کی روشنی پرورش کا باعث بنی تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ یہ جو میں نے ستارے بنائے ، پھر زمین بنائی اور پھر میں نے بے شمار چیزیں بنادیں مختلف انواع کے کچھ حیوان ہیں۔کچھ نباتات سے تعلق رکھنے والی ہیں۔کچھ معدنیات سے تعلق رکھنے والی ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر ہر چیز میں میری جس جس صفت کا جلوہ ہوا ہے چونکہ میری ہر صفت اور اس کے جلوے غیر محدود ہیں۔اس چیز کے جو خواص ہیں وہ غیر محدود ہیں۔تو اتنا بڑا کارخانہ اپنی وسعتوں کے لحاظ سے بھی اور اپنی گہرائیوں کے لحاظ سے بھی بے فائدہ اور بلا مقصد نہیں ہے، کوئی بات میرے سامنے تھی، کوئی مقصد میرے پیش نظر تھا جس کے لئے میں نے اس کا رخانہ عالم کو بنایا۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۳۰۶ تا ۳۰۸) آیت ۲۱ وَ مِنْ أَيْتِه أَنْ خَلَقَكُم مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرَ تَنْتَشِرُونَ رووو اللہ تعالیٰ نے انسانی مرتبہ کو سمجھانے کیلئے فرمایا۔وَمِنْ آیتِه أَنْ خَلَقَكُم مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا اَنْتُم بَشَر تَنتَشِرُونَ اللہ تعالیٰ کی زبر دست نشانیوں اور اس کی قدرتوں کے حیرت انگیز نظاروں میں سے ایک نظارہ یہ ہے کہ اُس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے ہماری اس زمین کی ہر چیز مٹی سے پیدا ہوئی ہے مٹی کے اجزاء اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک خاص محسوس و مشہور شکل اختیار کر لیتے ہیں