انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 106 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 106

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث 1+4 سورة فاطر ایک معنی میں وہ ربوبیت بھی کرتا ہے اور رحمانیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے رحیمیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے وہ معاف بھی کرتا ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے جلوے بھی دکھاتا ہے لیکن یہ سب نسبتی اور طفیلی چیزیں ہیں انسان اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور اس کی دی ہوئی توفیق سے صفات باری کا مظہر بنتا ہے اگر خدا کا سہارا نہ ہو تو پھر خدا تعالیٰ کی صفات کا کون مظہر بن سکے؟ ہاں جب اللہ تعالیٰ خود اپنا سہارا دیتا ہے اور اپنے فضل سے نوازتا ہے تو انسان اس کی صفات کا ملہ کا محدود دائرہ میں اور طفیلی طور پر مظہر بھی بنتا ہے اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق بنتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا الذین یعنی کامل غنا والی ذات تو اللہ کی ذات ہے اور وہ غنی ہونے کے لحاظ سے تمہارا محتاج نہیں اور العینی کے اندر یہ مفہوم بھی آ گیا ہے (جس کو پہلے فقرہ میں کھول کر بیان کیا گیا تھا) کہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی احتیاج ہے تم زندہ نہیں رہ سکتے جب تک حتی خدا تمہاری زندگی کی ضرورت کو پورا کرنے والا نہ ہو اور اپنی حیات کاملہ سے تمہیں ایک عارضی زندگی نہ عطا کرے تمہاری استعداد میں اور قو تیں قائم نہیں رہ سکتیں جب تک کہ خدائے قیوم کا تمہیں سہارا نہ ملے۔سب تعریفوں کی مالک اس کی ذات ہے اس لئے وہ تمہاری احتیاجوں کو پورا کرتا ہے اور تمہارے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ الحمدُ للهِ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ تم اس کے محتاج ہو اور وہ تمہارا محتاج نہیں اس لئے تم اپنی فکر کروان يَشَايُذهِبكُمُ اگر وہ چاہے تو روحانی حیات سے تمہیں محروم کر دے وَيَأْتِ بِخَلْقِ جَدِيدِ اور ایک اور ایسی قوم پیدا کر دے جو اپنے کو اس کے لئے فنا کر دے اور اس میں ہو کر ایک نئی زندگی پائے۔خلق جدید کا ایک نظارہ دنیا دیکھے گی پھر وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے فَنَا فِي الرَّسُولِ اور فَنَا فِی اللہ کے نتیجہ میں ایک نئی زندگی پائی اور ان کی خلق جدید ہوئی یہودیوں کے برعکس ان کا یہ حال تھا کہ ایک موقعہ پر ایک جنگ کی تیاری کے لئے بہت سے اموال کی ضرورت تھی اور ان دنوں کچھ مالی تنگی بھی تھی اور دنیا ایسی ہی ہے کبھی فراخی کے دن ہوتے ہیں اور کبھی تنگی کے دن ہوتے ہیں اس موقع پر بھی تنگی کے ایام تھے اور جنگی ضرورت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے سامنے ضرورت حقہ کو رکھا اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی انہیں تلقین کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو اپنا سارا مال لے کر