انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 105
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۰۵ سورة فاطر بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة فاطر آیت ۱۶ تا ۱۸ يَايُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الحَمدُ إِن يَشَايُذْهِبُكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقِ جَدِيدِ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزِ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مضامین بیان کئے ہیں وہ ایک دوسرے کی تائید کرتے اور دوسرے مضامین کے لئے دلائل مہیا کرتے چلے جاتے ہیں چنانچہ سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سچ تو یہ ہے اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ تم خدا کے فضلوں کے حاجت مند ہو تم اس احتیاج کا احساس پیدا کر لوتم یہ سمجھ لو کہ دنیا کی کوئی نعمت اور کوئی اُخروی نعمت ہمیں اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نہ کرے کیونکہ اس دنیا کی ملکیت بھی اس کے قبضہ میں ہے اور اس دنیا کی نعمتیں بھی اس کے ارادہ اور منشاء کے بغیر کسی کومل نہیں سکتیں۔تمہیں (جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے) جوتی کا ایک تسمہ بھی اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا منشاء نہ ہو ہر چیز میں ہر وقت اور ہر آن تم محتاج ہو تمہارے اندر اپنے رب کی احتیاج ہے خدا تمہارا محتاج نہیں خدا تعالیٰ تو غنی ہے وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ حقیقی غنا اسی کی ذات میں ہے کوئی اور ہستی ایسی نہیں جس کی طرف ہم حقیقی غنا کو منسوب کر سکیں اور کہ سکیں کہ اس کے اندرغنا پائی جاتی ہے اور وہ غنی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ صفات باری کا مظہر بنتے ہوئے غنا کی صفت بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق اپنے رب سے پائے پھر وہ ایک معنی میں غنی بھی بن جاتا ہے