انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 103

۱۰۳ سورة سبا تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث جتنی بڑی بشارتیں کسی امت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے رسول کے ذریعہ سے ملتی ہیں اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم الانبیاء اور افضل الرسل ہیں، اتنی ہی بڑی ذمہ داریاں بھی ان پر ڈالی جاتی ہیں اور اتنا ہی یہ احساس بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے نفس میں اور اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس کے اندر کوئی زور نہیں اور نہ کوئی طاقت ہے کہ وہ خدائی امداد اور نصرت کے بغیر اپنے زور سے قربانیاں کر کے ان وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے۔انسان کو تو یہ کہا گیا ہے کہ جتنی تجھ میں طاقت ہے وہ کر دے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے، اس کی نصرت اور اس کی امداد سے ہوتا ہے۔پس اس زمانہ میں یہ وعدہ ہے کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر عملاً انسان کے سامنے یہ تصویر پیش کرے گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمة للعالمین ہیں۔اعتقاداً نہیں بلکہ عملاً یہ تصویر پیش کرے گی کیونکہ الا ماشاء اللہ چند ایک استثناؤں کے علاوہ ساری دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور آپ پر ایمان لا کر آپ کے روحانی فیوض سے حصہ لیا۔یہ دعاؤں کے نتیجہ میں ہوگا اور اس دعا کے نتیجہ میں جو اس دل سے نکلی تھی جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنينَ (الشعراء: ۴) اور دنیا کے سامنے عملاً یہ نقشہ آ جائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک قوم کسی ایک علاقے کسی ایک ملک یا کسی ایک نسل کے لئے رسول نہیں ہیں بلکہ حافة للناس کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور یہ عملاً ثابت ہو جائے گا کیونکہ انسانوں کی بھاری اکثریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گی اور خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو جائے گا۔گو وہ اس شکل میں بیان نہیں ہوا لیکن وہ اپنے معنی کے لحاظ سے اس میں بیان ہو چکا ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے ان دونوں آیتوں کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے اور پھر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ وعدہ کب پورا ہوگا اور پھر ایک جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ چودھویں صدی میں اس وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ آجائے گا۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۳۵۷ تا ۳۶۱) کوئی دنیا کا رسول، کہتے ہیں ایک لاکھ بیس ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار رسول آئے ، کوئی بھی ان میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تھا ہی کچھ نہیں ، کہنا چاہیے۔کیونکہ بہت ساری ان کے اندر حدود تھیں۔ان کو خدا تعالیٰ نے محدود علم دیا، محدود زمانہ کے لئے مقرر کیا ، خاص قوم کی طرف آئے اور اس کے نتیجہ میں جو اس قوم کی اس زمانہ میں ضرورت تھی اس حد تک ان پر خدا تعالیٰ کی وحی نازل