انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 101
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث 1+1 سورة سبا ترقیات کی پہلی تین صدیوں کے بعد جب ایک ہزار سال گذر جائے گا تو اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ آ جائے گا یعنی چودھویں صدی سے اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہوگا۔پس رَحْمَةً للعلمین اور كَافَة لِلنَّاس میں ایک وعدہ ہے۔ویسے صرف نحو کے لحاظ سے وہاں وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اور وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلا كَافَةً لِلنَّاسِ ہے یعنی منصوب ہے لیکن جب ہم اس کو الگ بولیں تو کہیں گے کہ آپ رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ ہیں اور كَافَةٌ لِلناس کی طرف آپ کی بعثت ہوئی۔ان آیات میں یہ وعدہ نہیں کہ آپ مبعوث تو ہوئے ہیں نوع انسانی کی طرف لیکن نوع انسانی کبھی بھی آپ کو قبول نہیں کرے گی۔یہ وعدہ نہیں ہے بلکہ وعدہ یہ ہے کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو قبول کرے گی اور سارے کے سارے انسان سوائے چند ایک استثناء کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے۔جب وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ بتایا گیا تو پہلی تین صدیوں کا ذکر چھوڑ دیا گیا کیونکہ پہلی تین صدیاں ترقیات کی صدیاں تھیں ان میں اسلام بڑھتا چلا جارہا تھا اسلام عرب میں کامیاب ہوا پھر عرب سے باہر نکلا پھر افریقہ کے براعظم پر چھا گیا، صرف کامیاب ہی نہیں ہوا بلکہ چھا گیا، پھر وہاں سے نکلا اور ایک طرف سپین کے رستے سے یورپ میں داخل ہوا اور قریباً سارے پین کو اپنی رحمت کے احاطہ میں لے لیا اور دوسری طرف ایک وقت میں ترکی کی طرف سے یورپ کے اندر گیا اور ان کے دل جیتتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔یہاں تک کہ پولینڈ کے دل جیت کر پولینڈ سے پرے جو سمندر ہے اس کے کناروں تک پہنچ گیا اور پھر ماسکو جو آجکل کمیونزم کا دارالخلافہ ہے ابھی ماضی قریب میں ہی تیمور کے زمانے میں یہ اس کی سلطنت کے ایک صوبے کا دارالخلافہ تھا۔تیمور کا اطلاعات دینے کا نظام بہت تیز رفتار تھا بادشاہ کو گھوڑوں پر بڑی جلدی ان علاقوں کی خبریں آجاتی تھیں۔پھر اسلام چین کی طرف بڑھا تو اس کے اندر گھس گیا۔غرض کہ وہ ترقی کرتا چلا جارہا تھا حتی کہ تین صدیوں کے بعد یہ ترقی رک گئی اور تنزل کا دور شروع ہو گیا۔ترقی کے زمانہ میں نظر آ رہا تھا کہ معروف دنیا میں معلوم خطہ ہائے ارض میں اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے اور رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ اور كَافَةٌ للناس میں جو بشارت دی گئی تھی اور جو وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس کے بعد تنزل آنا شروع ہو گیا۔یہ تنزل بھی اس قسم کا نہیں ہے جو دوسروں پر آتا ہے اسلام پر کبھی ویسا تنزل نہیں آیا