انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 100

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة سبا تو جو اس ایمان کے تقاضے ہیں جو اَطِیعُوا اللهَ وَاَطِیعُوا الرَّسُول کا مطالبہ کر رہا ہے وہ ایمان خالی یہ نہیں کہ ہم ایمان لے آئے جو خدا اور رسول کی کامل اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔جو اس ایمان کے تقاضے ہیں اس کو آپ پورا کریں ساری دنیا اکٹھی ہو جائے آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اس لئے کہ آپ کی ساری محنت اور کوشش مزدوری جو ہے وہ اپنے لئے نہیں خدا اور اس کے رسول کے لئے ہے۔آپ اپنے لئے مکان نہیں بنا رہے۔آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محل تیار کر رہے ہیں اور ایسا قلعہ جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں ساری دنیا آجائے گی۔اگر آپ واقع میں ایسا کر رہے ہیں تو جو بشارتیں پہلی بھی اور نبی بھی ہیں وہ آپ کے حق میں پوری ہوں گی اس واسطے کہ اِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ والی کیفیت آپ کی زندگی میں ہے لیکن اگر آپ ایسا نہیں کر رہے تو خالی احمدی بن جانے سے منہ سے اور احمدی کہلانے دوسروں کے مونہوں سے، یہ آپ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔(خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۲۰۱ تا ۲۱۳) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑے عظیم الشان اعلان کئے ہیں۔ایک تو یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود تمام عالمین کے لئے ، تمام کائنات کے لئے رحمت بنایا گیا ہے اور دوسرے یہ کہا کہ آپ کی رسالت كافة لِلنّاس کے لئے ہے وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلا كَافَةُ لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ساری کی ساری نوع انسانی کے لئے آپ رسول ، بشیر اور نذیر ہو کر مبعوث ہوئے ہیں۔دو مختلف سورتوں میں یہ آیتیں ہیں اور ہر دو جگہ اس اعلان کے بعد کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے، کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور یہ کہ آپ کی رسالت كافة للناس کے لئے ہے یہودی اور عیسائی اور بدھ مذہب والے اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اور ہر زمانہ میں پیدا ہونے والے انسان ،غرضیکہ آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کی ہر نسل آپ کی رسالت کے ماتحت ہے۔دونوں جگہ اس اعلان کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے۔رَحْمَةً لِلْعَالَمین کے بعد فرمایا کہ میں نہیں کہ سکتا کہ جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے وہ کب پورا ہوگا۔وَ اِنْ اَدْرِی اَقَرِيبٌ اَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ (الانبیاء :۱۱۰) رسول بھی بشر ہوتا ہے اور رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ بھی بشر ہیں وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے علم نہ ہو کہ وہ وعدہ جس کا ذکر کیا گیا ہے کب پورا ہوگا اور جب كافة للناس کہا تو وہاں یہ بتایا کہ