انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 1

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة الروم بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الروم بیان فرموده سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالی قف آیت اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمُ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى وَ إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ لَكَفِرُونَ کیا وہ سوچتے نہیں اور فکر اور غور نہیں کرتے اپنے نفسوں میں کہ اللہ تعالیٰ نے ان آسمانوں اور زمین کو ایک خاص مقصد کے لئے اور ایک مقررہ وقت کے لئے پیدا کیا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ احقاف میں فرماتا ہے۔مَا خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى (الاحقاف : ٤) کہ اللہ تعالیٰ نے ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر اور ان کے درمیان پایا جاتا ہے بلاوجہ اور حکمت کے بغیر پیدا نہیں کیا اور نہ کوئی مدت مقرر کرنے کے بغیر پیدا کیا ہے۔اسی طرح اور بہت سے مقامات پر قرآن کریم نے بڑے زور کے ساتھ اس دعوی کو انسان کے سامنے پیش کیا ہے کہ اس کائنات کی پیدائش ایک خاص مقصد کے حصول کے پیش نظر کی گئی ہے۔یہ چاند، یہ ستارے، یہ سورج ، اب جب ہمارا علم بڑھ گیا ہے تو ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بے شمار سورج ہمارے نظامِ شمسی کی طرح اس عالمین میں پائے جاتے ہیں۔پھر آسمانوں کے متعلق تو بڑا تھوڑا اعلم ہے۔کم از کم تھوڑا بہت علم ہم نے حاصل کر لیا ہے کہ بعض ستارے زیادہ روشن ہیں اور بعض کم اور بعض ستارے ہم سے قریب ہیں اور بعض بہت دور یعنی یہ محض فلسفیانہ رنگ میں نہیں بلکہ دور بینوں سے ہم نے یہ پتہ لیا