انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 99

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۹۹ سورة سبا وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقْتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إلَّا وَهُمْ كَسسَالی (التوبۃ : ۵۴) نماز پڑھتے ہیں مگر ٹھونگے مارتے ہیں یعنی شرائط اس کی قائم نہیں کرتے۔ان کے دل میں خدا تعالیٰ کا پیار نہیں۔وہ جو عاجزی کی کیفیت دل اور دماغ اور روح میں پیدا ہونی چاہئے وہ نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو ہی حاکم اور دیا تونہیں سمجھتے بلکہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور قبروں پر مثلاً سجدہ بھی کر لیتے ہیں جاکے اور پیروں کی پرستش بھی کرتے ہیں۔اس قسم کی نماز پڑھنے والے ہیں۔وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ۔دیتے تو ہیں مگر نفرت کے ساتھ دیتے ہیں۔بشاشت کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ خرچ کرے اور بشاشت سے خرچ کرے کراہت سے خرچ نہ کرے۔ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ نماز پڑھے اور نماز کو شرائط کے ساتھ قائم کرے۔یہ نہیں کہ کسالی۔مثلاً آگئے دوڑ کے ادھر ادھر دیکھ لیا اچھا کسی کی نظر مجھ پر پڑی ہے مجھے پھر نماز پڑھنی پڑے گی تو آ گئے اور ظاہر میں ٹھونگے بھی مار لئے۔ایمان کا دعوی بھی ہے اور عملاً کفر باللہ اور کفر بالرسول بھی ہے اور ساتھ یہ دعویٰ بھی ہے یہ ہے ہی منافقوں کے متعلق۔ایسے کمزوروں کے متعلق جو نماز بھی پڑھتے ہیں آخر وہ ایمان کا دعویٰ کرنے - والے ہیں نا جو آ جاتے ہیں مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے اور زکوۃ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔تو اس کو چاہیے آپ تمہید سمجھ لیں۔جو کچھ ابھی تک میں نے بیان کیا۔میں جماعت کے یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت ہی متضر عانہ دعاؤں کے نتیجہ میں اور آپ کو جو اس نے بشارتیں دی تھیں اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کو اس لئے قائم کیا ہے کہ ساری دنیا میں صحیح اور سچے اسلام کو وہ پھیلا کے اور قائم کر کے اور بنی نوع انسان کے دلوں کو پیار اور محبت کے ساتھ خدائے واحد و یگانہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمتہ للعالمین اور بشیر اور نذیر كافة لِلنَّاسِ ہیں ان کے لئے جیتے۔بنی نوع انسان کے دلوں کو جیت کے خدائے واحد و یگانہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے جھنڈے تلے جمع کرے بنی نوع انسان کو۔اس لئے آپ کو قائم کیا، اتنی آپ کو بشارتیں دی گئی ہیں اتنی بشارتیں دی گئی ہیں کہ اندازہ نہیں آپ کر سکتے۔اگر آپ میں کوئی سمجھدار ہوتو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ میرے جیسے انسان کو اتنی عظیم بشارتیں کیسے مل گئیں ؟ مجبور ہوگا اس نتیجہ پر پہنچنے پر کہ مجھے یہ بشارتیں ملی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل۔