انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 95

۹۵ سورة سبأ تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کہہ کر جن آیات میں مردوں اور عورتوں کو ایک ساتھ مخاطب کیا گیا ہے ان کی تعداد علی الترتیب ۶۱ اور ۶۷ ہے اب رہیں وہ آیات جن میں عورتوں کے جسمانی طور پر مختلف حالات کے پیش نظر صرف عورتوں کو مخاطب کر کے صرف انہیں احکام دیئے گئے ہیں یا ان کے بعض زائد حقوق کا ذکر کیا گیا ہے سوان کی تعدا د انچاس ہے اس کے بالمقابل جن آیات میں صرف مردوں کا ذکر ہے وہ صرف گیارہ ہیں اس جائزہ سے بھی ظاہر ہے کہ جسمانی تفاوت کے سوا قر آن مجید میں جتنے بھی احکام دیئے گئے ہیں وہ مردوں اور عورتوں کو اکٹھا مخاطب کر کے دیئے گئے ہیں اور دونوں ان میں برابر کے شریک ہیں بلحاظ احکام اور بلحاظ حقوق و فرائض خدا تعالیٰ نے دونوں میں کوئی تفریق نہیں برتی۔اس ضمن میں حضور نے سورۃ النساء کی آیت الرّجالُ قَوامُونَ عَلَى النِّسَاءِ کا اصل مفہوم بھی واضح کیا چنانچہ فرمایا) جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے اس میں مردوں کی اس ذمہ داری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو گھر کی جملہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے سلسلہ میں ان پر ڈالی گئی ہے اس آیت میں یہ بتانا مقصود نہیں ہے کہ عورتیں مردوں سے کمتر درجہ رکھتی ہیں بلکہ بتانا یہ مقصود ہے کہ مرد گھر کے جملہ اخراجات کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں اور اس کی طاقت رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اعمالِ صالحہ کی جزا بھی دونوں کے لئے ایک جیسی رکھی ہے۔اس نے یہ کہیں نہیں کہا که مرد نیک اعمال بجالائیں گے تو انہیں زیادہ جزا ملے گی اور عورتیں جو نیک اعمال بجالائیں گی انہیں ان کی مردوں کے مقابلہ میں کم جزا ملے گی اس نے دونوں کے لئے ایک جیسی جزار کھ کر اس میں کسی قسم کا فرق روا نہیں رکھا بلکہ ان کی ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے تھوڑے اعمال کی جزا زیادہ رکھی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مردوں کے زیادہ اعمال کے برابر جزا ملے گی مثلاً عورتوں کو بعض ایام میں نماز نہ پڑھنے کا حکم ہے لیکن ثواب مرد کے برابر رکھا ہے یہ نہیں کہا کہ چونکہ مردوں نے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں اس لئے انہیں زیادہ ثواب ملے گا۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۶۳۳ تا ۶۳۶) اس عالمگیر رحمت کا جلوہ جو انسان پر ظاہر ہوا وہ كافة لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا کی شکل میں کہ تمام بنی نوع انسان کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشیر بھی ہیں اور نذیر بھی ہیں۔اس آیت کے ٹکڑے سے ہمیں بہت سی باتیں پتالگتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ تمام قوتیں اور طاقتیں عطا کر دی ہیں جن کے استعمال سے وہ بدی سے بچ سکتا