انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 85 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 85

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۸۵ سورة الانعام وَ أَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُودُ کہ یہ راستہ جس پر میں گامزن ہوں۔صراطی۔یہ راستہ سیدھا خدا کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر چل کر انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل ہوتی ہے۔فَاتَّبِعُوہ۔اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ میری محبت میں میری اتباع بھی کرو اور میرے پیچھے پیچھے آؤ۔یہ قیادت کا بہترین عملی نمونہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں دکھایا چنانچہ آپ نے دنیا کو یہ نہیں کہا کہ میں دنیوی آرام حاصل کرتا ہوں۔تم جاکے لڑو بلکہ ہر جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور لیڈر اور بطور قائد کے آگے ہوئے اور امت کو یہ کہا کہ میرے پیچھے آؤ۔یہ بہترین قائد جوا اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں امت کو یہ آواز دیتا ہے کہ میرے پیچھے آؤ بہت ہی عظیم ہے وہ قائد اور بہت ہی عظیم ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ خدا کی راہ میں قربانیاں دو بلکہ یہ کہا کہ جس طرح میں قربانیاں دیتا ہوں اس طرح میری سنت پر عمل کرتے ہوئے تم بھی خدا کی راہ میں قربانیاں دو۔غرض آپ نے یہ فرمایا کہ یہ راستہ جس پر میں گامزن ہوں تم اس پر چلو۔یہ راستہ خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔اس لئے تم میرے پیچھے پیچھے آؤ۔میری اتباع کرو اور اگر تم ایسا کرو گے تو قرآن کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے۔وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ( الاعراف : ۱۵۹ ) تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو گے تو تمہارا انجام بخیر ہو جائے گا۔تم ان خوشیوں کو حاصل کر لو گے جن کا حاصل کرنا انسان کے لئے ممکن ہے اور سب سے بڑی خوشی تو خدا تعالیٰ کی رضا ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا مل جائے گی پس اسلام نے یہاں بھی زور دے کر فرمایا کہ تمہارا ہدایت پانا تمہارا نیک انجام ہونا بہترین جزا کا تمہیں ملنا اس بات پر منحصر ہے کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( ال عمران : ۳۲) کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی کا نتیجہ بھی یہ ہونا چاہیے کہ جو خدا کہتا ہے وہ تم کرو اور خدا تعالیٰ تمہیں کہتا ہے۔اتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (الاعراف :۱۵۹) اس لئے اگر تم میری پیروی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا اس وجہ سے بھی کہ تم نے میری پیروی کی اور اس راستہ کو اختیار کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی جنت میں لے جانے والا تھا اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی کا یہ تقاضا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ کرو یہ اتباع جس رنگ میں ہونی چاہیے وہ دنیا کا عام رنگ نہیں اور یہ آپ اچھی طرح یاد