انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 84

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۸۴ سورة الانعام کی حالت بیان کرتا ہے اللہ۔جن میں سے ایک تو گونگا ہے جو کسی بات کی طاقت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بے فائدہ بوجھ ہے۔جدھر بھی اس کا آقا اسے بھیجے ، جو ذمہ داری بھی اس کے سپرد کی جائے۔وہ کوئی بھلائی کما کر نہیں لاتا، نا کام ہوتا ہے اپنے مشن میں، اپنے کام میں۔ایک تو وہ شخص ہے کیا وہ شخص جس کا اوپر ذکر ہے جو گونگا ہے اور خیر کی طاقت نہیں رکھتا اور نا کام ہوتا ہے وہ شخص اور وہ دوسرا شخص جو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھی راہ پر قائم ہے باہم برابر ہو سکتے ہیں؟ یہاں موازنہ کیا گیا ہے اس شخص کا جو خود بھی عدل کرتا ہے علی صراط مستقیم پر قائم ہے اور اپنے ماحول میں بھی عدل کی تعلیم کو قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ وہ شخص ہے۔جہاں نفی ہوئی پہلی چیزوں کی۔اس شخص کے حق میں نفی مثبت میں بدل جائے گی۔یہ وہ شخص ہے کہ جدھر بھی اس کا آقا اسے بھیجے وہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرتا اور بھلائی کما کر لاتا ہے اور یہ وہ شخص ہے جو گونگا نہیں جو کسی بات کی طاقت نہ رکھتا ہو اور یہ وہ شخص ہے جو اپنے مالک پر بے فائدہ بوجھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا اس غرض کو پورا کرنے والا ہے یہ شخص اپنی زندگی اور اعمال صالحہ کے نتیجہ میں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۳۷۷،۳۷۶) آیت ۱۵۴ وَ اَنَّ هَذَا صِرَاطِى مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا رود السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَقُكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ بعض دفعہ محبت کا زبانی دعوی ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جس قسم کی محبت ہمارے دل میں ہونی چاہئے وہ محض زبان کا دعویٰ نہیں ہونا چاہیے۔بعض دفعہ محبت حقیقی ہوتی ہے لیکن انسان اپنی عادت سے مجبور ہو کر یا بعض اپنی اخلاقی کمزوریوں سے مجبور ہوکر (اخلاقی کمزوری سے مراد میری بداخلاقی نہیں ) ایسی جرات نہیں رکھتا کہ وہ میدان جنگ میں بھی لڑ سکے۔اس قسم کی کمزوریوں کے نتیجہ میں محبت کا عملی اظہار نہیں کر سکتا۔یعنی گو محبت حقیقی ہوتی ہے لیکن عملاً اس کا اظہار نہیں ہوتالیکن خدا تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں آپ کی محبت کا عملی دنیا میں اظہار کریں قرآن کریم بار بار ہمیں اس کی طرف متوجہ کرتا ہے اور میں بھی اب جماعت کو اس طرف متوجہ کر رہا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔