انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 83

۸۳ سورة الانعام تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث زندگیوں میں خدا تعالیٰ کو ذُو رَحْمَةٍ واسعةٍ پائیں گے۔لیکن اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو خواہ ہمارا دعویٰ یہ ہو کہ ہم مصدق ہیں ہمارا مقام مصدق کا مقام نہیں ہوگا بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کے قہر کے نیچے آجائیں گے۔لیکن ایک احمدی جو منافق نہیں ہے ویسے الہی سلسلوں میں منافقوں کا سلسلہ بھی ساتھ لگا ہوا ہے لیکن وہ تو استثناء ہیں اور جو استثناء ہے وہ قاعدہ کو ثابت کرتا ہے۔الہی سلسلوں میں بہت بھاری اکثریت مخلصین کی ہوتی ہے۔میرے خیال میں منافق کا وجود تو شاید ہزار میں سے ایک بھی نہیں ہوگا شاید دس ہزار میں ایک بھی نہیں ہو گا لیکن جو شخص منافق نہیں ہے یعنی اُن لوگوں کی طرح نہیں ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے زبان سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اس کے مطابق اعتقاد نہیں رکھتے اور نہ عمل کرنے کے لئے تیار ہیں سوائے ریا اور دکھاوے کے عمل کے۔منافق کے تو سارے اعمال ہی دکھاوے کے ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ دل سے اعتقاد ہی نہیں رکھتا اور اس کا ایمان صحیح ہے ہی نہیں تو اس کا جو مومنانہ عمل ہوگا وہ ریا اور دکھاوے کا عمل ہوگا۔وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا عمل نہیں ہوگا لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے کہ انسان صداقت کے پہچان لینے کے بعد بھی بشری کمزوری یا غفلت کے نتیجہ میں ایک ایسا کام کر لیتا ہے جو ایک مومن اور مصدق کا عمل نہیں ہوتا بلکہ ایک منافق کا عمل ہوتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۲۷ تا ۳۳) جب کوئی بات کہو تو خواہ وہ شخص جس کے متعلق بات کی گئی ہے تمہارا قریبی ہی ہو ( یعنی تعقت اس کے حق میں بھی آسکتا ہے ) تعصب نہ آنے دو۔عدل وانصاف سے کام لے کے بات کرو اور اگر ایسا کرو گے وَ بِعَهْدِ اللهِ اوفوا تو خدا نے جو عہد لیا ہے تم سے جو فرائض تم پر عائد کئے ہیں تم ان کو پورا کرنے والے ہوگے۔اگر ایسا نہیں کرو گے، اگر اپنوں کے لئے حق و انصاف کی بات کو چھوڑ دو گے تو خدا تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض کو توڑنے والے ہو گے اس عہد کو نباہنے والے نہیں ہو گے خیانت کرنے والے ہو جاؤ گے۔پھر اللہ تعالیٰ سورۃ نحل میں فرماتا ہے۔( جو آیت میں نے لی وہ تو دوسرے مضمون کا حصہ ہے )۔هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَ مَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (النحل :۷۷) مفہوم میں نے پہلی آیتوں کا لیا ہے تا کہ اگلا مفہوم واضح ہو جائے۔اللہ تعالیٰ دو شخصوں کی حالت بیان کرتا ہے جن میں سے ایک تو گونگا ہے جو کسی بات کی طاقت نہیں رکھتا۔میں کہا کرتا ہوں کہ ہمارے ملک میں شرافت گونگی ہے۔آواز نہیں نکلتی شرافت کے حق میں۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دو شخصوں