انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 82
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۸۲ سورة الانعام غرض جو لوگ کھلم کھلا انکار کرتے ہیں وہ تو واضح ہیں لیکن ہر وہ شخص جو خدا تعالی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا اور اُس نے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنی زندگی اُس شریعت اور ہدایت کے مطابق گزارے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی یعنی قرآن کریم کو لائحہ عمل بنائے گا۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلحائے امت کے جس سلسلہ کی ہمیں اطلاع دی ہے اور جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ برگزیدہ اور صالحین کے ساتھ رہو گے تو اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرو گے۔چنانچہ وہ شخص بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صالحین کے ساتھ رہے گا۔اسی طرح جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی علیہ السلام کے آنے کی پیشگوئی فرمائی اور اس کا یہ دعویٰ ہے کہ میں نے مہدی علیہ السلام کو پہچانا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کو سلام بھیجا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اُسے یعنی مہدی معہود کو جو سلامتی پہنچی تھی اُس میں حصہ دار ہونے کی کوشش کی۔صرف اُس کے لئے نہیں بلکہ ساری جماعت کے لئے بڑے خوف کا مقام ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنی غفلت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے اُن فضلوں سے محروم ہو جائے جو جماعت احمدیہ پر نازل ہوتے ہیں۔ویسے جان بوجھ کر تو کوئی احمدی ایسا نہیں کرتا سوائے اس کے کہ کوئی منافق ہو لیکن میں اس وقت منافق کی بات نہیں کر رہا، میں اُن لوگوں کی بات کر رہا ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں وارننگ دی ہے اور جن کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دیکھو قول و فعل میں تضاد بڑے خوف کا مقام ہے۔اگر تمہارے قول اور تمہارے فعل اور تمہارے اعتقاد میں تضاد ہوا بایں ہمہ کہ تم نے دعوئی یہ کیا کہ ہم ایمان لائے۔ہم نے تصدیق کی۔لیکن اگر تمہارا اعتقاد اس سے مختلف ہوا یا تمہارے اعمال اس سے مختلف ہوئے تو یہ نہ بھولنا کہ لَا يُرَدُّ بَاسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِين تم مجرم بن جاؤ گے اور مجرم اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں۔قرآن کریم تمہیں یہ بتا دیتا ہے کہ یہ عذاب ہے اس سے تم بچ نہیں سکتے اس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔اس لئے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ جس معنی میں اسلامی اصطلاح میں تصدیق کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہ تکذیب کے مقابلہ میں ہے اس معنی میں ہم مصدق ہوں گے۔زبان سے بھی تصدیق کرنے والے اور اس کے مطابق عملی اعتقاد رکھنے والے ہوں گے۔در اصل اعتقاد صحیحه منبع بنتا ہے اعمال صالحہ کا۔پس اگر ہمارے اعمال صالحہ ہوں گے تو ہم اپنی