انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 1

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة المائدة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المائدة بیان فرموده ا ا سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ آیت ۱، ۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَابِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الهدى وَالْقَلَبِدَ آمِنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنْ ربِّهِمْ وَرِضْوَانًا وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَد وكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَ لا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ حقیقت یہ ہے کہ تمام حقوق العباد علامات ہیں حقوق اللہ کی ادائیگی کی کیونکہ حقوق العباد کی ادائیگی یہ بتاتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار اور اس کی اطاعت کرنے والا ہے۔جب ہم کسی شخص کا، کسی جاندار کا یا کسی بے جان مخلوق کا حق ادا کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ اس مخلوق کے اپنی ذات میں کوئی حقوق تھے جنہیں ہم ادا کر رہے ہیں ہم ان حقوق کو اس لئے حقوق کہتے اور حقوق تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے ان حقوق کو قائم کیا ہے۔اس بات کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے زمانوں میں بھی خال خال ایسا کیا اور اُس وقت کے انسان کو یہ سمجھایا کہ حقوق العباد کی ادائیگی اس بنیاد پر ہی ہو سکتی ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے اور اس طرح سمجھایا کہ عقل کوئی اور