انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 81
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ΔΙ سورة الانعام شامل ہوتا ہے لیکن ایک زائد گناہ وہ یہ کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں تضاد پایا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے کہ تضاد نہ پایا جائے۔ایک شخص باغی ہے وہ کھلم کھلا کہتا ہے کہ میں ایمان نہیں لاتا اور ایک وہ ہے جو کہتا ہے میں ایمان لاتا ہوں یعنی صرف زبان سے ایمان لاتا ہے مگر نہ اس کا اعتقاد ایمان کے مطابق ہوتا ہے اور نہ اس کے اعمال ایمان کے مطابق ہوتے ہیں۔پس منافق کا ایک گناہ منکر اور کافر سے زیادہ ہوتا ہے باقی گناہ برابر ہوتے ہیں اس لئے فِي الدَّرُكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النار کی سمجھ آ گئی کہ کیوں منافقین کو زیادہ سزادی گئی ہے۔ویسے تو ہم قرآن کریم کی ہر آیت پر ایمان لاتے ہیں چاہے اس کی ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن عظیم کو ایک حکمت والی کتاب بنایا ہے اس لئے وہ ساتھ ساتھ سمجھاتا اور دلیل بھی دیتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ رَبِّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ میں یہی مضمون بیان فرمایا ہے کہ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) اور اس طرح بتایا ہے کہ میں (اللہ ) رحمت واسعہ کا مالک ہوں۔اگر چہ یہ درست ہے اور یقیناً درست ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا جلوہ اللہ پر ایمان لانے والے۔اس سے تعلق رکھنے والے، اس پر جاں نثار کرنے والے اور اس کے فدائیوں پر ظاہر ہوتا ہے اور وہ جلوہ دُنیا پر یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارا رب ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ ہے لیکن باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةِ ہے نوعِ انسانی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمہا ر بھی ہے۔انسان پر اس کا غضب بھی بھڑکتا ہے اگر کوئی شخص خود کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا اہل بنالے تو وہ خواہ زبان سے انکار کرے اور اس کے مطابق ہی وہ کافر و منکر کہلائے خواہ زبان سے اقرار کرے لیکن دلی اعتقاد نہ رکھے اور دلی اعتقاد کے نتیجہ میں جو مخلصانہ اعمال سرزد ہوتے ہیں وہ اس سے سرزد نہ ہور ہے ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا۔اس میں بڑی سخت وارننگ اور تنبیہ ہے اُن کے لئے بھی جو منکر اور کافر ہیں اور اُن کے لئے بھی جو بظاہر خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی جماعت میں ، امت محمدیہ میں شامل ہوتے ہیں لیکن اُن کا اقرار محض زبان کا ہوتا ہے۔یہ اقرار دل اور دوسرے جوارح اور عمل کا نہیں ہوتا۔مثلاً اعتقاد جو اُن کے زبانی اقرار سے تضا درکھتا ہے یا عمل جو ہے وہ زبانی دعوی سے مختلف ہے تو زبانی دعووں سے کوئی شخص خدا تعالیٰ کا پیار حاصل نہیں کر سکتا بلکہ وہ اس زمرہ میں شامل ہو جاتا ہے جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔