انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 75 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 75

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۷۵ سورة الانعام بشارتوں کے متعلق پختہ نہ ہو۔اسی طرح وہ شریعت کو قائم کرنے والے نہ ہوں تو ان کو ایمان کی طرف لانے کے لئے اللہ تعالیٰ پھر ا نذاری طریق استعمال فرمائے گا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو مبارک کہا ہے بعض جگہ قرآن کریم کے متعلق یہ بیان ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو تمام ہدایتوں کا مجموعہ ہے، لیکن یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو تمام برکات کی جامع ہے۔یعنی الہی ہدایتوں پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جو برکات انسان کو حاصل ہوتی ہیں اس آیت میں ان کا بیان ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان فرمایا کہ پہلی امتوں کو کامل ہدایت نہ ملی تھی ناقص ہدایت ملی تھی (بوجہ اس کے کہ وہ اپنی روحانی نشوونما میں ابھی ناقص تھے ) اگر وہ نیک نیتی کے ساتھ ، پوری جدوجہد، محنت اور کوشش کے ساتھ اس ہدایت پر عمل کرتے جوان کو دی گئی تھی تو اس کے نتیجہ میں جو برکت انہیں حاصل ہوتی وہ اس برکت کے نتیجہ میں بہت کم ہوتی جو قرآن کریم کی ہدایت پر عمل کر کے انسان حاصل کر سکتا ہے کیونکہ قرآن کریم تمام برکات کا مجموعہ ہے۔اس آیت پر میں نے جب غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر یہ قرآن کتاب مُبَارَک ہے اور یقیناً قرآن كِتَابٌ مُبارک ہے اور اس نے تمام برکات روحانی کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے تو پھر عقلاً تین نتیجے نکلتے ہیں۔اوّل یہ کہ اس کتاب کی کامل اتباع کی جائے۔دوسرے یہ کہ اس کتاب نے تقویٰ کی جو باریک راہیں ہمیں بتائی ہیں ان پر گامزن رہا جائے اور تیسرے یہ کہ اگر اور جب ہم یہ کر لیں تب خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے ہم پر کھل سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم ایسا نہ کریں تو باوجود اس کے کہ یہ کتاب تمام برکات روحانی کی جامع ہے ہم اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۶۲، ۳۶۳) آیت ۱۰۴ لَا تُدرِكْهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ۔پھر ایک اور مسئلہ بیچ میں پیدا ہو گیا کہ جب خدا غیب الغیب ہے اور وراء الوراء اور نہایت مخفی ذات ہے تو ہماری عقل اور ہماری سمجھ تو اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتی پھر ہم اس کی معرفت کیسے حاصل کریں؟ تو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ وہ ہے تو وراء الوراء اور غیب الغیب اور نہایت مخفی ، اتنا مخفی