انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 73
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کی طرف لاؤں۔۷۳ سورة الانعام ( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۲۲۶) آیت ۷۲ قُلْ اَنَدعُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَ تُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدْنَا اللهُ كَالَّذِي اسْتَهُوَتْهُ الشَّيطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَةَ أَصْحَب يَدْعُونَةَ إِلَى الْهُدَى انْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدى وَأُمِرْنَا لِمُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ اور وہ بلاتا ہے ( دعا الی اللہ ) لوگوں کو اس امر کی طرف کہ خدا تعالیٰ کے کامل فرمانبردار مسلم بن جاؤ۔مسلم کے معنی ہی ہیں کامل فرمانبردار بن جاؤ۔اور کامل فرمانبرداری کس کی؟ قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی اس ہدایت کی کامل اطاعت کرو، ہر حکم کی جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری بھلائی کے لئے نازل کیا ہے۔ہر اس چیز سے بچو جس کے بچنے کا اس نے تمہیں کہا ہے سختی کے ساتھ۔یہ نہیں کر نہ کر نواہی جو ہیں۔اسی لئے سورۃ الا انعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی راہنمائی۔راہنمائی کیوں ہوتی ہے؟ راہنمائی ہوتی ہے۔بھولا بھٹکا ہے اس کو ہدایت کی ضرورت ہے۔اس کو راہنمائی کی ضرورت ہے۔یہاں ربوہ میں بھی بہت سے آجاتے ہیں اور آپ میں سے کسی کو پوچھتے ہیں ہم نے فلاں جگہ جانا ہے۔ایک دوست ہمارا رہتا ہے اس کا راستہ کہاں ہے؟ یہ اللہ کی ہدایت کامل ہدایت انسانوں کی تمام صلاحیتوں کی صحیح ، خالص اور پوری نشوونما کرنے والی جو ہدایت ہے یہ سوائے اللہ کے جو انسان کو جانتا اور پہچانتا ہے اس لئے کہ وہ خالق ہے اور کوئی دے ہی نہیں سکتا۔میں تو آپ کو نہیں جانتا نہ مجھے آپ کے اندرونے کا پتا۔نہ مجھے آپ کے خیالات کا پتا۔نہ مجھے آپ کے اخلاق کا پتا۔نہ مجھے آپ کی دلچسپیوں کا پتا۔نہ مجھے آپ کی قوتوں اور صلاحیتوں کا پتا۔میں آپ کے لئے ہدایت کیسے کر سکتا ہوں پیدا۔نہ آپ ایک دوسرے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ہدایت تو وہی دے سکتا ہے جس نے پیدا بھی کیا اور جو ہر وہ علم جس کا ہماری ذات سے تعلق ہے وہ جانتا ہے اسے۔وہ علم رکھتا ہے۔وَاُمِرْنَا لِنُسلِمَ یہاں بھی یہ کہا ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اطاعت کریں لرب العلمین اس رب کی جو عالمین کا رب ہے۔ہمارا بھی رب ہے۔