انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 72
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۷۲ سورة الانعام گا ضرور۔اگر یہ اصلاح نہیں کریں گے۔ہرا نذاری پیشگوئی مشروط ہے یعنی اگر جن کے متعلق وہ انذار ہے وہ اپنی اصلاح کرلیں تو خدا تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔اسلام کی یہ تعلیم ہے لیکن اگر وہ اصلاح نہ کریں اور خدا کی گرفت میں آجائیں تو عذاب تو آیا لیکن مطالبہ کرنے والے کا جو مطالبہ جلدی کا تھا اس وقت نہیں آیا لیکن آیا ضرور اور جب آ گیا تو اس وقت اس کا بھی انکار کر جائیں گے۔عذاب دیکھیں گے پھر بھی انکار کر جائیں گے۔آخر جیسا کہ میں نے بتایا ساری دنیا نے ان انذاری پیشگوئیوں کے جلوے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لئے قرآن کریم نے بیان کی ہیں، دیکھے مغرب نے بھی دیکھے، مشرق نے بھی دیکھے، شمال نے بھی جنوب نے بھی دیکھے اور جو عذاب میں ہلاک ہو گئے ان کے تو ایمان لانے کا سوال نہیں۔جو بچ گئے ان میں سے بھی بہت ساروں نے پھر بھی انکار کر دیا۔اسی واسطے خدا نے کہا کہ تمہیں پتا لگ جائے گا کہ جس چیز (عذاب) کو یہ مانگ رہے ہیں ، جب خدا چاہے گا عذاب آئے گالیکن عذاب آنے کے باوجود بھی وہ انکار کریں گے ایمان نہیں لائیں گے اور بشارتیں جو دی گئی ہیں مومنوں کے لئے اس میں حصہ دار نہیں بنیں گے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۱۴۹ تا ۱۵۸) آیت ۶۷ وَكَذَابَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُلْ تَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ۔۔۔۔ایک رنگ میں یہ بیان ہمارے جذبات کی تاروں کو چھیڑتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی ہدایت لے کر آئے لیکن قوم نے اس پیغام کی تکذیب کردی اور اسے جھوٹا قراردے دیا حالانکہ هُوَ الْحَقُّ یہ تو ایک صداقت ہے یہ تو ایک سچائی ہے لیکن فرمایا :۔قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُم بوکیل اے رسول ! تم ان سے کہہ دو۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔یہ فیصلہ بہر حال تم نے کرنا ہے کہ آیا تم اپنی مرضی سے ایمان کا اظہار کرو گے اور ہدایت کی راہوں کو اختیار کرو گے اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قرب کی تلاش کرو گے یا تم کفر کا اعلان کرو گے اور خدا تعالیٰ سے دوری کی راہوں کو اختیار کرو گے۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ نے میرے اوپر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ میں تم پر جبر کر کے زبردستی کے طور پر کسی مادی طاقت کے ذریعہ تمہارے اس اختیار کو چھین کر جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے تمہیں ہدایت کی راہوں