انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 63

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۳ سورة الانعام اپنے مریضوں کی موت کا سبب بن جاتے ہیں۔بڑے بڑے دعا گو چھوٹے قسم کے طبیب غلطی نہیں کرتے اور دعاؤں کے نتیجے میں اپنے مریضوں کی شفا کا موجب بن جاتے ہیں۔تو فَلَا كَاشِفَ لَه الا ھو یہ شرک کے بہت سارے یا قریباً سارے ہی جو پہلو ہیں ان کو یہاں کاٹ کے رکھ دیا۔وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرِ اگر تمہیں کوئی خیر اور بھلائی پہنچے تو تمہیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ہر خیر اور بھلائی کا سر چشمہ اور منبع جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔تمہارا دوست تمہیں بھلائی نہیں پہنچا سکتا، خیر نہیں پہنچا سکتا جب تک خدا نہ چاہے۔تم خود اپنے آپ کو خیر نہیں پہنچا سکتے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِہ وہ اپنے بندوں پر غالب اور متصرف بالا رادہ ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا تعالیٰ کی جو طاقتیں ہیں ان سے باہر نکل کے اس کے احکام اور او امر اور اس کی منشا سے دور جاسکتا ہوں۔نہیں۔وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، ہاں اس کا یہ جو غلبہ ہے اس کا سلوک تصرف بالا رادہ ہونے کی حیثیت کے لحاظ سے جو ہے وہ اس کی ان دوصفات کے ماتحت ہے۔بڑی حکمتوں والا ہے۔اپنی حکمتوں کو سامنے رکھ کے وہ اپنے فیصلے کرتا ہے اور سب حالات سے باخبر ہے۔وہ باخبر تھا جس طرح قرآن کریم میں آتا ہے کہ ایک نیک کی اولاد کے خزانہ کی حفاظت کر لی اور ایک نیک کو برائی سے بچانے کے لئے اس کے بچے کی موت کا سامان پیدا کر دیا۔تو وہ خبیر ہے اور حکمت کا ملہ کا مالک ہے۔سورۃ انعام کی جو یہ آیات ہیں اس میں جو بنیادی چیز آپ کے دماغ میں میں چاہتا ہوں حاضر رہے وہ یہ ہے کہ اُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَم که نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ پاک اور مطہر اور خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب رسول ہیں۔کوئی انسان ایسا نہیں جو آپ کی گرد کو بھی پہنچ سکے اور دوسرے یہ بات کہ اس کے باوجود سورۃ انعام میں آپ سے یہ بھی کہلوایا گیا انّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے محمد نے بھی نافرمانی کی اپنے رب سے تو عَذَابَ يَوْمٍ عَظیم سے مجھے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔سی نافرمانی کرنا جہاں تک خدا تعالیٰ کی اس محبت کو ہم دیکھتے ہیں جو آپ کے ساتھ تھی جہاں تک آپ کے عشق کو دیکھتے ہیں جو اپنے محبوب خدا کے ساتھ تھا بالکل ناممکن ہے۔یہ اعلان کیوں کیا گیا ؟ ہمارے لئے کیا گیا۔ہمیں بتانے کے لئے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہم کہلواتے ہیں ائی أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ تو تم اپنی فکر کرو۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ ۵۳۱۳۵۲۵)