انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 62
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۲ سورة الانعام اور کوئی چیز نہیں اور سب سے بڑی کامیابی انسان کو اپنی زندگی میں جو پھیلی ہوئی ہے دنیوی اور اُخروی ہر دو زندگیوں پر یہ ہے کہ جس وقت حشر کا دن ہوگا اور جس کا ایک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ عَذَابَ يَوْمٍ عظیم کے مستحق ٹھہرائے جائیں گے۔اس دن جن لوگوں کو عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کا مستحق نہیں ٹھہرایا جائے گا اور یہ عذاب ان سے ٹالا جائے گا اور اس عذاب سے ان کو محفوظ رکھا جائے گا ، اس سے بڑی انسانی زندگی میں اور کامیابی نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ إِنْ يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ اور اگر اللہ تجھے کوئی ضرر پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور نہیں کر سکتا۔یہ ضرر پہنچانا جو ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے گرفت یہ کئی قسم کی ہے۔اس زندگی میں ضرر پہنچانے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ جیسا میں نے ابھی کہا۔اذا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء: ۸۱) انسان کو اللہ تعالیٰ اس بات میں حفاظت نہیں دیتا کہ وہ غلطی نہ کرے اور بیمار نہ ہو اور اس کے نتیجہ میں بیمار ہو جائے تو یہ ضرر بھی اللہ تعالیٰ کی اس سہولت کی وجہ سے، اس اختیار کی وجہ سے ہے کہ وہ غلطی کر جائے۔کھانے میں بد پرہیزی کر جائے۔وہ سردی سے اپنے جسم کی حفاظت نہ کرے اور اس کے جگر کو ٹھنڈ لگ جائے۔اس کا نظام ہضم خراب ہو جائے گا تو سخر لکھ کے اندر یہ آجائے گا۔اسلام نے یہ عقیدہ نہیں اپنا یا کہ تکلیف پہنچانے والی کوئی اور ہستی ہے اور تکلیفیں دور کرنے والی کوئی اور ہستی ہے۔وہ ایک ہی خدا ہے جو اختیار دیتا ہے انسان کو کہ غلطی کرنا چاہتے ہو، کر لو نتیجہ بھگتو گے اس کا۔لیکن جہاں یہ اعلان کیا کہ جب غلطی تم کرو گے تو یہ یادرکھو کہ میں ہمیشہ تو بہ قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلا هُوَ جب غلطی کرو۔اِذَا مَرِضْتُ کی مثال ہی میں پھر لیتا ہوں بیمار ہو جاؤ گے۔اس کے بعد اگر یہ سمجھو کہ اس بیماری کو دور کرنے کے لئے مجھے خدا کے علاوہ بھی کسی چیز کی ضرورت ہے تو یہ شرک ہے۔حقیقت یہی ہے کہ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ اس ضرر کو سوائے خدا کے اور کوئی دور نہیں کر سکتا۔ہاں اس نے دوائیں پیدا کیں کسی اور نے تو نہیں پیدا کیں۔اس نے انسانی ذہن یا انسانی اذہان میں سے بعض ذہنوں کو یہ قابلیت اور استعداد دی کہ وہ طب کے میدان میں آگے نکلیں اور مہارت حاصل کریں۔جب طبیب کے پاس ہم جاتے ہیں تو اس لئے نہیں جاتے کہ طبیب اپنی ذات میں کوئی طاقت رکھتا ہے شفا دینے کی ، شفا خدا نے دینی ہے۔بڑے بڑے ماہر طبیب غلطی کرتے اور