انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 61
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۶۱ سورة الانعام کرتے ہیں انہیں ہر وقت زندگی کے ہر لمحہ میں اپنا محاسبہ کرنا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو جائے جس سے ہمارا پیارا ہم سے ناراض ہو جائے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ کسی قسم کا بھی کوئی شرک ہو اس کو نہیں کرنا وَ لَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ یعنی جیسے سب سے بہتر ، سب سے بڑا فرمانبردار بننا ہے ویسے ہی سب سے زیادہ گناہوں سے بچنے والا اور استغفار کرنے والا اور خدا کی پناہ کی تلاش کرنے والا اور خدا کی پناہ پانے والا بننا ہے۔اور اس حکم کے بعد کہ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ یہ فرما یا قُلْ یہ بھی اعلان کر دو۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ یہ اعلان کر دو انّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔میں اپنے رب کی نافرمانی کروں میں تو بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔جیسا کہ انہی آیات میں اشارہ ہے یہ ہولناک دن جو ہے یہ حشر کے دن جو معاملہ کیا جائے گا انسانی ارواح سے اور فیصلہ ہوگا کہ جہنم میں جانا ہے یا جنت میں جانا ہے یہ وہ دن ہے عَذَابَ يَوْمٍ عظیم جس کے متعلق کہا گیا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ اول المسلمین بننا ہے۔حکم ہے کہ شرک کی کوئی ملونی تمہاری زندگی میں نہیں ہوئی اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں دوسری آیت جو دی ہے اس میں پھر یہ اعلان ہے کہ جو مجھے حکم تھا اس کے مطابق میں نے اپنی زندگی گزاری۔ان تمام احکام کے باوجود یہ حکم بھی ساتھ ہے۔حکم نہیں یہ اعلان بھی ساتھ ہے۔اٹھی أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ - یہ کہنے والے میں اور تم یا اور دوسرے لوگ نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کر دو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ڈرتے ہیں اٹیچ اَخَافُ میں ڈرتا ہوں میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے خدا کی نافرمانی کی تو میں بھی عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔پانچویں بات ان آیات میں یہ بتائی گئی ہے کہ یہ جس کو عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کہا گیا ہے اس دن جس دن یہ عذاب ٹالا جائے گا۔جسے اس عذاب سے حفاظت مل جائے گی اللہ تعالیٰ کی۔اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت اس پر نازل ہو رہی ہوگی جس کی وجہ سے وہ عذاب سے بچے گا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نتیجہ میں اس نے خدا کے فضل سے کامل اطاعت کی توفیق پائی ہوگی اور یہ جو ہے بچنا یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔فَوْر عَظِیم ہے یہ۔عربی زبان میں عظیم کا لفظ بولا جاتا ہے کہ جس سے بڑھ کر