انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 59
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۹ سورة الانعام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ هو تفسير سورة الانعام آیت ۱۵ تا ۱۹ قُلْ اَغَيْرَ اللهِ اتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ ط ويُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔قُلْ إِنّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ دو دو عَظِيمٍ مَنْ يُصْرَفُ عَنْهُ يَوْمَبِذٍ فَقَد رَحِمَةُ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ وَ إن يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَةَ إِلَّا هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ اس کا ترجمہ تفسیر صغیر سے یہ ہے قُلْ أَغَيْرَ اللهِ اتَّخِذُ وَلِيًّا تو کہہ کیا میں اللہ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے کوئی اور دوست بناؤں حالانکہ وہ (سب انسانوں کو ) کھلاتا ہے اور (کسی کی طرف سے ) اسے رزق نہیں دیا جاتا۔کہہ دے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے بڑا فرمانبردار بنوں اور یہ کہ (اے رسول) تو مشرکوں میں سے مت بنیو۔تو کہہ دے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔جس پر سے وہ (عذاب) ٹلا یا گیا تو ( سمجھ لو کہ ) اس دن اس پر خدا نے رحم کر دیا۔اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔۔۔۔۔سورۃ انعام کی جو آیات ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے نہ آسمان پیدا ہو گئے ، نہ زمین معرض وجود میں آئی اور آسمانوں اور زمین پر جب تم غور کرو جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا وَ سَخَّرَ