انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 57

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۵۷ سورة المائدة شکل میں نازل ہو گیا ہے اور جواب کفر کرے گا اور انکار کرے گا اور ناشکری کرے گا اور اس رزق سے وہ فائدہ نہیں اٹھائے گا جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے اٹھایا جائے۔اسے اللہ تعالیٰ پہلوں سے بڑھ کر عذاب دے گا۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جسمانی رزق سے بھی اس طرح فائدہ اٹھایا جائے کہ اس سے روحانی بہتری کے سامان پیدا ہوں اور جو روحانی غذا ہے وہ تو ہے ہی اس کام کے لئے لیکن انسان جب ناشکرا ہو جاتا ہے تو وہ جسمانی غذا کھا کر اپنے جسم کو تو موٹا اور تازہ کر لیتا ہے لیکن روح کی تروتازگی کا سامان پیدا نہیں کرتا اور جو روحانی غذا اس پر نازل ہوتی ہے اس کی طرف وہ توجہ نہیں کرتا اور اس سے بے اعتنائی برتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص ناشکری کرے گا میں اسے عذاب دوں گا۔پھر سورۃ مائدہ کی آیات میں ایک آیت (وَايَةً منك) مانگی گئی تھی لیکن یہاں سورۃ آل عمران میں فرمایا کہ میں بہت سی آیات دوں گا اور جو ان آیات کا انکار کرے گا اس کو میں سخت عذاب دوں گا۔یہ دن تمہارے لئے عید کا دن بن سکتا ہے لیکن تم پر واجب ہے کہ ہر وہ دن جو تمہارے لئے عید بنایا جائے اس کے نتیجہ میں تم میرے شکر گزار بندے بنو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے اور میری باتوں کو نہیں سنو گے تو پہلے انبیاء کی تنبیہ اور انذار کے مطابق اس کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قہر اور غضب دیکھنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ نے پہلوں سے یہی کہا تھا کہ ہمارے انکار کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا جو غضب نازل ہو سکتا ہے۔اس سے زیادہ غضب اس وقت نازل ہوگا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائیں گے اور لوگ ان کا انکار کریں گے۔اس لئے تم ابھی سے فکر کرو اور اپنی نسلوں کو اس عذاب سے بچانے کے سامان پیدا کرو۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم تمہیں آیات دیں گے۔جو لوگ ان آیات کی ناشکری کریں گے۔لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ان کے لئے سخت عذاب مقدر ہے اور اللہ غالب اور سزا دینے والا ہے۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۲۳ تا ۲۷) عید کے معنی بار بار آنے والی خوشی کے دن کے ہیں۔عربی زبان پر یہ لفظ صرف اس عید پر (جس کو عید الفطر یا ہم اپنی زبان میں چھوٹی عید کہتے ہیں اس پر یا بڑی عید پر ہی چسپاں نہیں ہوتا۔بلکہ ہر خوشی کا موقع جب لوگ خوشی منانے کے لئے جمع ہوں عید کہلاتا ہے۔قرآن کریم میں اس عید کا ذکر بھی فرمایا ہے۔اس آیت میں اَنْزِلُ عَلَيْنَا مَا بِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدَ الَّا وَلِنَا وَأَخِرِنَا