انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 632 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 632

۶۳۲ سورة العنكبوت تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث کھیل سے بہت پیار ہے اور وہ دیکھتے ہیں۔میں نے پیچھے بتایا تھا باسکٹ بال والوں کو کہ ہم تو ہر خوبصورتی میں خدا تعالیٰ کے حسن کا جلوہ دیکھتے ہیں۔اس واسطے جہاں بھی ہمیں خوبصورتی نظر آئے ہم الحمد للہ پڑھنے والے ہیں۔تو کھیل میں بھی بڑی خوبصورت مود (Move) کہتے ہیں ان کو، وہ ہوتی ہیں اور بڑی بھیانک، بدشکل کہہ دیں ہم، بڑی مود بھی ہوتی ہیں لیکن جو ہا کی کا میچ دیکھتا ہے وہ ایک گھنٹہ کچھ منٹ کے بعد ختم ہو گیا۔لیکن جو جنت کی خوشی ہے وہ ایک گھنٹہ یا ایک دن یا ایک مہینہ یا ایک سال یا ایک صدی یا ایک Million کا زمانہ (لفظ مجھے پوری طرح نہیں رہا ذہن میں ) یعنی لاکھوں سال یا اربوں سال یا کھربوں سال کا زمانہ تو نہیں ہے۔وہ تو نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔پھر اس میں حکمت یہ ہے، یہ جو تبدیلی ہے یعنی لذت کا بڑھتے چلے جانا اس واسطے کہ اگر لذت اور سرور خواہ وہ روحانی ہو خواہ اس کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ ہو اگر اس میں ٹھہراؤ آ جائے تو بور ہو جائے گا آدمی۔ایک ہی چیز اگر آپ کو بہت اچھی لگتی ہے اور صبح شام آپ کی بیوی وہی پکا کے آپ کو کھلا نا شروع کر دے تو دو، چار، پانچ دس دن کے بعد آپ کہیں گے کہ یہ کیا شروع کیا ہوا ہے میرے ساتھ تم نے سلوک؟ تو بوریت کوئی نہیں ہے کہ آدمی کہے کہ اب میں یہ کھاتے کھاتے تھک گیا ہوں اس لئے کہ وہ پینج (Change) ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صبح انسان جنت میں جو اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرے گا شام کو اس سے بڑھ کے کرے گا۔اگلی صبح اس سے بھی بڑھ کے کرے گا۔اس واسطے ان لوگوں کا خیال بالکل غلط ہے کہ وہاں عمل نہیں ہے۔جنت میں عمل ہے، امتحان نہیں ہے۔عمل ہے، اس کی جزا ساتھ ساتھ ملتی ہے یعنی اگر ( میں فلسفہ بتانے لگا ہوں آپ کو، بہت سارے سمجھ جائیں گے ) جنت میں داخل کئے جانے کا استحقاق ہماری ورلی زندگی کے مقبول اعمال نے پیدا کر دیا تو جو پہلے دن جنتی نے عمل کیا اس کا استحقاق کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔وہ یہی ہے۔پھر وہ پلس (Plus) ہو گیا نا اس استحقاق کے ساتھ۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے پہلے سے زیادہ ان کا احساس خوشی کا پہلے سے زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۳ ۴ تا ۴۱۵)