انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 56

۵۶ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کی بعثت سے قبل کسی اور کے لئے مقدر نہیں کیا گیا کیونکہ آپ سے پہلے آنے والوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے صرف اس حصہ کا انکار کیا تھا جو ان کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور گو وہ اصولی طور پر تو مجرم تھے لیکن ساری ہدایت کے وہ منکر نہیں تھے۔ان کے مقابلہ میں جو لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کامل شریعت اور مکمل ہدایت کے منکر ہوں گے انہیں پہلوں کی نسبت زیادہ عذاب ملے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے کہا تم انہیں تنبیہ کردو کہ میں آسمان سے ان کے لئے دنیا کی نعمتوں کا بھی سامان پیدا کروں گا اور ان کی روحانی بقا اور حیات کا سامان بھی پیدا کروں گا۔لیکن یہ رزق چاہے دنیوی ہو یا روحانی ان پر بہت سی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے اور جو شخص ان ذمہ داریوں کو نہیں نبھا تا اور ناشکری کی راہوں کو اختیار کرتا ہے ( خصوصاً اس وقت جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو جائے اور کامل ہدایت اور مکمل شریعت کا نزول ہو جائے ) اس پر خدا کی گرفت بھی پہلوں سے زیادہ ہوگی۔اس مضمون کے مطابق اور اس وعدہ کے مطابق جو سورۃ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام سے کیا تھا۔سورۃ آل عمران کی شروع کی آیات ( جو میں نے ابھی پڑھی ہیں ) مضمون بیان کر رہی ہیں۔سورۃ مائدہ میں وعدہ دیا گیا تھا کہ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ اور سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدائے واحد کی طرف سے جو الحی اور القیوم ہے حقیقی زندگی کا وہی مالک ہے۔وہ حقیقی طور پر زندہ ہے اور حیات اور زندگی صرف اسی سے حاصل ہوسکتی ہے۔وہ دوسروں کو زندہ رکھنے والا ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور بقا اور قیام صرف اسی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ایک ایسا مائدہ نازل ہو رہا ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔نَزِّلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ (ال عمران : ۴) گویا حضرت عیسی علیہ السلام کو وعدہ دیا گیا تھا کہ اِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُم اور اب یہ اعلان کیا گیا ہے کہ نَزِّلَ عَلَيْكَ الكتب بِالْحَقِّ یعنی کامل حق اور کامل صداقت پر مشتمل کتاب جو انسان کے لئے مقدر تھی وہ انہی بشارتوں اور وعدوں کے مطابق اتاری گئی ہے۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء سے کئے گئے تھے اور جن کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی ہے۔تو رات اور انجیل میں تو صرف پہلوں کے لئے ہدایت کا سامان تھا لیکن وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ اب اللہ تعالیٰ نے الفرقان نازل کر دیا ہے جو کامل اور مکمل ہدایت ہے۔اور جو نشان ( وَايَةً مِنْكَ ) مانگا گیا تھا وہ کامل اور مکمل طور پر اب الفرقان کی