انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 627 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 627

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۶۲۷ سورة العنكبوت ایک قسم کی آزمائش خدا تعالیٰ کے احکام اور شیطانی وساوس کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔(۲) دوسرا فتنہ یا آزمائش جس سے مومن آزمائے جاتے ہیں وہ قضاء وقدر کی آزمائش ہے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ مومنوں کو قضاء وقدر کی آزمائش میں ڈال کر ان کا امتحان لیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ (البقره: ۱۵۶) کہ ہم اپنی مشیت اور اذن سے تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہارے مالوں میں نقصان کی صورت پیدا کر دیں گے۔احمدیت میں بھی جو اللہ تعالیٰ کا سچا سلسلہ ہے ہر روز ایسی مثالیں ملتی رہتی ہیں مجھے کئی خطوط آتے رہتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ ہم احمدی ہوئے تھے مگر بیعت کے بعد ہمیں نقصان ہونا شروع ہو گیا ہے۔اگر یہ لوگ قرآن کریم کی ذرا بھی سمجھ رکھتے ہوں تو وہ فوراً جان لیں کہ یہ نقصان احمدیت کی صداقت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے غلط یا جھوٹا ہونے کی کیونکہ قرآن کریم نے پہلے ہی بوضاحت بتا دیا تھا کہ جب تم ایمان لاؤ گے تو کبھی خدا تعالیٰ تمہارے مالوں میں تنگی پیدا کرے گا اور تمہیں آزمائے گا کہ آیا تم مال کو خدا تعالیٰ پر ترجیح دیتے ہو یا خدا تعالیٰ کی مرضی کو مال پر ترجیح دیتے ہو۔والانفس اور کبھی یہ کرے گا کہ ادھر تم ایمان لائے اُدھر تمہارا بچہ مرگیا یا کوئی دوسرا رشتہ دارفوت ہو گیا۔اس وقت شیطان آئے گا اور تمہارے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ یہ مذہب جو تم نے اختیار کیا بڑا منحوس ہے۔دیکھوا بھی تم ایمان لائے اور تمہارا بچہ فوت ہو گیا یا تمہاری ماں کا انتقال ہو گیا یا تمہارا باپ چلتا بنا وغیرہ وغیرہ لیکن اگر تم قرآن کریم کو جانتے اور سمجھتے ہوگے تو تم اس آیت کے ماتحت ایک قسم کی بشاشت محسوس کرو گے کہ کتنا سچا ہے ہمارا خدا اور کتنا مہربان ہے وہ کہ وقت سے پہلے ہی اس نے یہ بتا دیا تھا کہ ہم اس قسم کی آزمائش میں تمہیں ڈالیں گے۔وَ الثَّمرات اور کبھی وہ یہ کرے گا کہ دنیا کے حصول کے لئے جو تمہاری کوششیں ہوں گی دنیوی میدان میں اس کا نتیجہ ٹھیک نہیں نکلے گا اور ہم اس کو تمہارے لئے ایک آزمائش بنا دیں گے۔تو اس قسم کی آزمائشوں کو قضاء وقدر کی آزمائش کہا جاتا ہے یہ دوسری قسم کی آزمائش ہے جس میں سے مومن کو گزرنا پڑتا ہے۔(۳) تیسرا فتنہ یا آزمائش جس کا ذکر ہمیں قرآن کریم سے ملتا ہے وہ مخالفین کی ایذاء رسانی ہے