انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 613 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 613

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطنا ۶۱۳ سورة القصص بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القصص آیت ۲۵ فَسَقَى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّى إِلَى الفِلِينَ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا انْزَلَتَ إلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير 609 حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بڑی پیاری بات کہی ہے جو قرآن کریم نے بھی نقل کی ہے اور وہ یہ ہے کہ رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير کہ ہر چیز کی مجھے احتیاج ہے جو بھلائی بھی تیری طرف سے آئے میں اس کا محتاج ہوں ، میں اسے اپنے زور سے حاصل نہیں کر سکتا جب تک تو مجھے نہ دے وہ مجھے نہیں مل سکتی غرض حقیقی خیر چاہے دنیوی ہو یا اُخروی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ملا کرتی ویسے اللہ تعالیٰ کتوں کو بھی بھوکا نہیں مار رہا ، سور بھی اس کی بعض صفات کے جلوے دیکھتے ہیں ان کو بھی خوراک مل رہی ہے اور ان کی ( مثلاً بیماریوں سے ) حفاظت بھی ہو رہی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانہ میں وباء کے طور پر اس قسم کے جانوروں کو ہلاک کر دے جس طرح وہ بعض دفعہ انسان کی بعض گناہگار نسلوں کو فنا کر دیتا ہے لیکن جو سلوک ان جانوروں سے ہو رہا ہے وہ اس سلوک سے بڑا مختلف ہے جو انسان سے ہو رہا ہے اور جو سلوک ایک کتے سے ہورہا ہے جو سلوک ایک سور سے ہو رہا ہے جو سلوک ایک گھوڑے یا بیل یا پرندوں سے ہو رہا ہے اس کے مقابلہ میں جو سلوک ایک انسان سے ہو رہا ہے اس کو ہم خیر کہہ سکتے ہیں۔باقی عام سلوک ہے گو ایک لحاظ سے وہ بھی خیر ہے لیکن صحیح اور حقیقی معنی میں وہ خیر نہیں اور انسان خیر کا محتاج ہے اگر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر نہ ملے بلکہ اس سے عام سلوک ہو تو اس دنیا میں تو اس کا پیٹ بھر جائے گا مگر اس دنیا میں بھوک کیسے دور ہوگی یا مثلاً اس دنیا میں سورج کی تپش ہے اگر اسے ایک چھوٹا یا بڑا مکان مل گیا تو وہ اس تپش سے محفوظ ہو