انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 612 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 612

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۶۱۲ سورة النمل اسی طرح قبول ہو جس طرح بندہ مانگتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ اس کی دعا کو اس شکل میں قبول کرتا ہے جو دعا کرنے والے کے حق میں بہتر ہو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دعا کرنے والے کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے۔پس دعا قبول ضرور ہوتی ہے لیکن ہوتی اس شکل میں ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں دعا کرنے والے کے لئے بہتر ہو نہ کہ اس شکل میں جس میں بندہ اپنی نادانی سے اس کے پورا ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔پھر سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السوء (العمل : ۶۳) یعنی بتاؤ کون کسی بے کس کی دعا کو سنتا ہے جب وہ خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔وَيَكْشِفُ السُّوءَ میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب بشارت دی ہے اور وہ یہ کہ تم دعا کرتے چلے جاؤ ایک دن وہ ضرور قبول ہوگی۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ انسان مضطر ہونے کی حالت میں دعا مانگے اور وہ قبول نہ ہو۔مضطر کی دعا کی قبولیت ایک نہ ایک دن ظاہر ہو کر رہتی ہے یعنی اس کی تکلیف بہر حال دُور کر دی جاتی ہے۔پس السُّوء کا دعاؤں کے نتیجہ میں دُور کیا جانا مومنوں کے دل کا (خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۴۱، ۱۴۲) مستقل سہارا ہے۔