انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 610
۶۱۰ سورة النمل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث Stagnation ( کھڑے پانی) کی وجہ سے کیڑے پیدا ہو جانے تھے اور یہ مختلف Germs (جراثیم) ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں اس لئے بارش برسائی جس سے دریا بہہ نکلے اور ان کے تیز بہاؤ کے ساتھ یہ سارے گند بہہ کر سمندر میں جا ملے جس سے سمندر کا پانی نا قابل استعمال ہو گیا۔اگر سمندر کا یہ پانی حیات کا ذریعہ ٹھہرتا تو بیماری ہی بیماری ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بہت بڑا احسان فرمایا کہ سورج کی تپش سے سمندر سے نہایت صاف اور مصفا پانی کے بخارات اُٹھائے۔ہم Distil کر کے جو عرق نکالتے ہیں وہ بھی اتنا صاف نہیں ہوتا جتنے یہ بخارات صاف ہوتے ہیں یا ہم پانی کو ابال کر جراثیم مارتے ہیں اس میں بھی وہ بات نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس نظام میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے یہ اُصول بنا دیا ہے کہ یہ دو پانی (ایک سمندر کا اور دوسرا دریاؤں وغیرہ کا ) آپس میں مل نہیں سکتے۔اس گول زمین میں اونچائی اور نیچائی یعنی نشیب و فراز کا اصول اللہ تعالیٰ ہی چلا سکتا تھا انسان خواہ کتنا ہی سوچے اس کے دماغ میں تو یہ آ ہی نہیں سکتا۔مثلاً اگر آپ دو گیند بنائیں اور ان میں اگر زمین کی کشش وغیرہ کا حصہ نہ ہو تو آپ کو سمجھ بھی نہیں آ سکتی کہ ان میں اونچ نیچ کیسے رکھیں یا نشیب و فراز کیسے بنائیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ نشیب میں گندے پانی کو رکھا اور اونچی جگہ پر صاف پانی کو رکھا جو برسات کے موسم میں موسمی بارشوں یا چشموں یا برف سے پھلے ہوئے پانی سے دریاؤں کی شکل میں بہہ نکلتا اور ایسا حکیمانہ انتظام کر دیا ہے کہ یہ دونوں (سمندر اور دریاؤں وغیرہ کے ) پانی آپس میں (خواص کے لحاظ سے ) ملتے نہیں۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ سمندر کا پانی دریاؤں کے پانی کو خراب کر دے بلکہ بادلوں کے ذریعہ، ہواؤں کے ذریعہ اور پہاڑوں کے انتظام کے ساتھ ایک ایسا نظام جاری کر دیا جس کے ذریعہ گندے پانی میں سے اچھے پانی کے انسان تک پہنچنے کا انتظام ہوتا رہتا ہے۔غرض اس سارے انتظام کی بدولت ایک روک بھی ایسی پیدا کر دی کہ دنیا کی کوئی طاقت اس روک کو دور نہیں کر سکتی اور ایک پل بھی ایسا بنا دیا کہ پانی کے جتنے فوائد ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پل کے ذریعہ ہمیں حاصل ہونے لگ گئے۔پس قرآن کریم کی رُو سے یہی وہ الارض یعنی زمین ہے جہاں پانی ہے جو حیات اور زندگی کا منبع اور سر چشمہ ہے اور پھر زندگی کے اس سرچشمے کی آگے مناسب تقسیم کیلئے اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں نے ایک عظیم انتظام کر رکھا ہے۔