انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 609 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 609

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۶۰۹ سورة النمل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النمل آیت ۶۲ آمَنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَ جَعَلَ خِللَهَا أَنْهَرا وَ جَعَلَ b لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا وَإِلَهُ مَعَ اللهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْلَمُونَ اللہ تعالیٰ نے پانی کی تقسیم اور صفائی کا بھی انتظام کیا ہے۔چنانچہ سورج کو کہا (سارے اجرامِ فلکی انسان کی خدمت پر مامور ہیں) کہ سمندروں کے پانی کو گرما ؤ اور پھر اس سے بخارات کو اُٹھاؤ اور پھر ہواؤں کو کہا یہ کمزور بخارات ہیں یہ وہ سفر کر نہیں سکتے جو ہم ان سے کروانا چاہتے ہیں اس لئے ان کو اپنے کندھوں پر اٹھاؤ اور جہاں ہم کہتے ہیں وہاں انہیں لے جاؤ۔پہاڑوں کو کہا کہ جب تک پانی کے بار یک ذرے آپس میں ٹکرائیں گے نہیں اس وقت تک پانی کی شکل میں زمین پر نازل نہیں ہو سکتے اس لئے تم ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ تا کہ اس طرح بارش برسے اور پہاڑی ندی نالے دریاؤں کی شکل میں بہہ نکلیں اور ان دریاؤں کے ذریعہ سے زمین کی سیرابی اور شادابی کا انتظام ہو۔پھر ان پہاڑوں سے یہ بھی کہا کہ دیکھو بادل تو جب ہم کہیں گے وہ آئیں گے لیکن تم کچھ Store (ذخیرہ) کرلو تا کہ تھوڑے بہت پانی کا سارے سال انتظام ہوتا رہے۔چنانچہ برف کی شکل میں پہاڑوں پر Reservoirs ( ذخیرے) قائم کر دیئے جن میں سے تھوڑا بہت پانی سارا سال ہی بہتا رہتا ہے۔پس زمین وہ ہے جس میں پانی ہے ان اجزا کے ساتھ جن پر حیات کا انحصار ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں نے اس پانی کی آگے مناسب تقسیم کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔پھر پانی میں کچھ تو لوگوں نے گند ملانے تھے اور کچھ دوسرے گند مل جانے تھے اور