انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 608 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 608

۶۰۸ سورة الشعراء تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث والی اس کی صفت ہے۔بار بار کرم کرنے والا ہے۔تو رحمتی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) جس کی صفت ہوا سے چھوڑ کے ایک ایسی ہستی کی طرف جانا جو جاہل بھی ہے خدا تعالیٰ کے مقابلے میں طاقتور بھی نہیں ہے اور جس کا رحم جو ہے وہ خدا تعالیٰ کے رحم کے مقابلہ میں اپنی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا، یہ حماقت ہوگی۔اس واسطے تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ اس لئے عملی زندگی میں (جو اصل چیز میں اس وقت پورے زور کے ساتھ آپ کو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں ) سوائے خدا کے کسی کے ساتھ تعلق قائم نہ کرو اس معنی میں کہ صرف اس پر توکل کرو اور جو عقید تا اس کی صفات کا علم ہے، دعا کرو کہ وہ پیاری صفات تمہاری زندگی میں جلوہ گر ہوں۔خدا کے سوا حقیقی خوشی اور خوشحالی کا سامان کوئی ہستی نہیں پیدا کر سکتی اور اللہ تعالیٰ اتنا پیار کرتا ہے، اتنا پیار کرتا ہے کہ انسانی عقل شرم سے سر جھکا دیتی ہے اور انسان جو ہے اس کو سمجھ نہیں آتا کہ میں کس منہ سے خدا تعالیٰ کی حمد ادا کروں۔ایک ایک انعام کے بدلے میں جو شکر ادا کرنا ہے مناسب ، ساری عمر کرتے رہیں تب بھی نہیں وہ شکر ادا ہو گا لیکن کہا تو یہ گیا ہے کہ اَسْبَغَ عَلَيْكُم نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (القمن :۲۱) موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح تمہارے اوپر میری نعمتیں نازل ہو رہی ہیں۔صرف ایک مثال دوں گا عملاً کس طرح خدا تعالیٰ دیتا ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۶۶، ۲۶۷)