انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 607
۶۰۷ سورة الشعراء تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے بالکل اسی لفظ کا ترجمہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں Balanced Diet یعنی متوازن غذا۔قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے کہا تھا کہ خدا نے ہر چیز میں میزان بنایا ہے آلا تَطْغَوا في الميزان تمہیں حکم یہ ہے کہ اس اصول کو نہ تو ڑنا ، اس بیلنس (Balance) کو Upset نہ کر دینا ورنہ تمہاری صحبتیں خراب ہو جائیں گی۔پس ہمیں یہ تو اختیار ہے کہ ہم متوازن غذا کھائیں ، وزن کو برقرار رکھیں اور ہمیں ٹھیک صحت مل جائے یا ہم اس اصول کو توڑیں اور بیمار ہو جائیں۔اِذَا مَرِضْتُ میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان خود بیمار ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی شفا کے لئے جھکتا ہے لیکن ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم گوشت کھائیں اور ہماری خواہش یہ ہو کہ ہمیں نشاستہ مل جائے اور ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم کھائیں پنیر اور یہ سمجھیں کہ ہمارے جسم میٹھے کا فائدہ حاصل کر لیں۔یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔وہاں خدا تعالیٰ نے اپنا قانون چلایا ہے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۳۵۱،۳۵۰) آیت ۲۱۸ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ہمیں دنیوی سہاروں میں یہ عیب نظر آتا ہے کہ وہ سہارا دینا چاہتے ہیں اور کام بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ سہارا دینے اور کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔اس کی طاقت اور قدرت ان میں نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ میں غالب ہوں مجھے ہر قسم کی قدرتیں حاصل ہیں میں ایک بات کا فیصلہ کرلوں تو دنیا کی کوئی طاقت میرے اس فیصلہ کور ڈ نہیں کر سکتی میرا ہی حکم جاری ہے پھر دنیا دار انسان سود فعه خوشامد کرتا ہے۔دس بار خوشامدوں کا نتیجہ نکل آتا ہے باقی ضائع ہو جاتی ہیں وہ تو بار بار دنیا کے سہاروں کی طرف جھکتا ہے لیکن دنیا کے سہارے بار بار اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں ایسا نہیں ہوں میں جہاں عزیز ہوں وہاں الرحیم بھی ہوں جتنی دفعہ تم میرے سامنے آؤ گے اتنی ہی دفعہ تم مجھ سے فیض حاصل کرو گے صرف خلوص نیت ہونا چاہیے اور توکل اپنی پوری شرائط کے ساتھ کیا جائے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۸۴) تین دلیلیں، تین حکمتیں یہاں بیان ہوئی ہیں۔سورہ شعراء میں ہے وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ عزیز پہلے آ گیا ہے۔یہاں دونوں کو اکٹھا کیا ہے۔جو جو چاہتا ہے کر سکتا ہے، طاقتور ہے اور بار بار کرم کرنے