انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 606
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۰۶ سورة الشعراء میں سامان اکٹھا کرنے اور پھر مکہ تک پہنچانے کے لئے تو وقت کی ضرورت تھی لیکن اسی وقت اس نظام کی ابتدا کر دی جس نے ان لوگوں کی ، بھوکا مارنے والوں کی بھوک کو دُور کرنے اور تکلیف کو دُور کرنے کے سامان کرنے تھے۔آیت ۸۱ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۶۱) إِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ اس قسم کی بیماریاں جب آتی ہیں تو پھر آدمی کو علی وجہ البصیرت اس آیت کے معنی معلوم ہوتے ہیں مثلاً میں نے آرام سے کہہ دیا ہے کہ مجھے گرمی لگی لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجھے گرمی کیوں لگی آدمی خود بیمار ہوتا ہے بے احتیاطی کے نتیجہ میں یا غلط فیصلہ کر کے اس دن بڑی سخت لو چل رہی تھی ملاقات کے لئے دوست بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے میں نے کہا مجھے نفس کی قربانی دینی چاہیے اور ان سے مل لینا چاہیے چنانچہ میں سوا دس بجے سے کوئی ایک بجے (بعد دو پہر ) تک او پر جہاں میں عام طور پر ملاقات کیا کرتا ہوں بیٹھا رہا اور جب وہاں سے اٹھا تو میر اسر پکڑا ہوا تھا اور مجھے پتہ لگ گیا تھا کہ میں غلطی کر بیٹھا ہوں اور اب اس کو بھگتنا پڑے گا تو مرضتُ انسان خود بیمار ہوتا رہتا ہے اور خدا تعالیٰ فَهُوَ کشفین کے جلوے بھی دکھاتا رہتا ہے۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۳۳، ۲۳۴) ڈاکٹر اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق پروٹین میں بھی ایک توازن قائم رکھنا چاہیے۔خدا کو تو وہ نہیں جانتے۔یہ فقرہ میں کہہ رہا ہوں۔بہر حال ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ انسان نے اگر صحت مند رہنا ہے تو اس کو اپنی روزانہ کی پروٹین کی مقدار میں بھی آگے یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ اتنے فیصد میں گوشت سے حاصل کروں گا ( گوشت کی آگے پھر کئی قسمیں بن جاتی ہیں مچھلی وغیرہ لیکن اس کو میں چھوڑتا ہوں ) اور اتنے فیصد میں پنیر سے حاصل کروں گا اور اتنی دودھ سے لوں گا اور اتنی بادام وغیرہ سے لوں گا اور اتنی میں Legumes یعنی دالوں سے لوں گا۔دالوں میں سے کسی میں کم پروٹین ہوتی ہے اور کسی میں زیادہ۔بہر حال خدا تعالیٰ کی شان ہے اس نے بے تحاشا چیز میں بنا دیں اور ہمیں کہا کہ وَضَعَ الْمِيزَانَ - اَلَا تَطْغَوا في الميزان (الرحمن: ۸-۹) کہ اس نے میزان پیدا کیا ہے اور تمہیں حکم یہ ہے کہ اس اصول میزان کو اس بیلنس (Balance) کو توڑ نانہیں۔اب انگریزوں