انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 605
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الشعراء اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الشعراء آیت ۴ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ اور ایک وہ تھا ہمارا آقا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِینَ نیکی بجالانے کی ذمہ داری تو ہر فرد واحد کی تھی مگر وہ ایمان اور عمل صالح نہیں بجالا رہے تھے اور ان کیلئے اور ان کی فلاح کے لئے راتوں کو تڑپ رہا ہے محمدصلی اللہ علیہ وسلم۔یہ تو ذکر اللہ کے نتیجے میں ایک عظیم مثال ہے جس سے بڑی اور زیادہ شان والی اور کہیں نہیں ملتی۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لئے اُسوہ بنایا گیا ہے۔آپ کا رنگ ہمیں اپنی زندگی اور اپنے اعمال پر چڑھانا ضروری ہے۔اس واسطے اُمت محمدیہ کی بھی یہ صفت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنا چاہیں ان کی یہ صفت کہ وہ کسی کا ذرا سا دُکھ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔میں نے سوچا کئی دفعہ سوچا اور میں نے بیان بھی کیا کہ مکی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو رو و سائے مکہ نے کتنا دکھ پہنچایا۔بھوکوں مارنے کی انتہائی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ نے نہیں مرنے دیا یہ تو اس کی شان تھی لیکن انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پھر خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے جو اُسوہ رکھا تھا اس کو نمایاں کر کے ہمارے سامنے لانے کے لئے ان کو بتانے کے لئے کہ خدا کے بندے اور بتوں کے پجاری میں فرق ہے ان کے اوپر قحط کا زمانہ وارد کیا۔انہوں نے پیغام بھیجا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جن کو شعب ابی طالب میں قید کر دیا گیا تھا اور کھانے کے سب راستے بند کر دئے گئے تھے کہ اپنے بھائیوں کو بھوکا دیکھنا پسند کرو گے؟ ہم آخر تمہارے بھائی ہیں۔ہمارے اوپر قحط کا زمانہ ہے۔جہاں تک میں نے سوچا اور جہاں تک میر اعلم ہے آپ نے ایک سیکنڈ بھی دیر نہیں کی ان کی اس تکلیف کو دور کرنے میں۔یہ درست ہے کہ مدینے