انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 601
۶۰۱ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث حصول کے لئے اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے اور اسلام کی اس تعلیم کو جاننے ،اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور پر ایمان لایا جاوے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام با وجود تدابیر کی کمی کے باوجود ذرائع اور وسائل کے فقدان کے دنیا پر غالب آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے ماتحت ہی غالب ہوگا۔دوسرا گروہ وہ ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پہلے گروہ کے تمام دعاوی جھوٹے اور غلط ہیں اس گروہ کا ایک حصہ تو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود ہی نہیں اور سارے مذاہب ہی جھوٹے ہیں اور مذہب کے نام پر کئے جانے والے جتنے دعاوی ہیں ہم کسی کو بھی ماننے کے لئے تیار نہیں پھر ایک گروہ اس جماعت کا وہ ہے جو کہتا ہے کہ خدا ہے اور وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ خدا دنیا کی اصلاح کے لئے اپنے انبیاء مبعوث فرماتا رہا ہے لیکن وہ یہ نہیں مانتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور افضل الانبیاء ہیں اور جو شریعت اور ہدایت آپ کے ذریعہ بنی نوع انسان کو دی گئی ہے وہ بنی نوع انسان کی قیامت تک کی تمام الجھنوں کو سلجھانے کے لئے کافی ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے پھر اس گروہ کا ایک حصہ وہ ہے جوا اپنی زبان سے تو کہتا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب ہے لیکن اپنی کسی باطنی یا ظاہری غفلت یا گناہ کے نتیجہ میں وہ یہ نہیں سمجھ سکتا یا سمجھ نہیں رہا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو اس مقصد اور غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ تمام اکناف عالم اور تمام اقوام عالم میں اسلام کو پھیلایا جائے حتی کہ تمام ادیان باطلہ پر اس کا غلبہ ہو جائے۔غرض یہ دو گروہ ہیں ان کے درمیان ایک قضیہ ( جھگڑا) ہے اور یہ قضیہ ظاہر ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا۔اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ جماعت احمدیہ کا موقف ہی صحیح اور درست ہے اور یہ کہ یہ چھوٹی سی کمزور اور حقیر سمجھی جانے والی۔جماعت اموال نہ ہونے کے باوجود ذرائع و وسائل مہیا نہ ہونے کے باوجود اور دنیا میں کسی اقتدار اور وجاہت کے نہ ہونے کے باوجو د صرف اس لئے کامیاب ہوگی کہ وہ اپنے رب کریم کی طرف جھکنے والی ہے اور ہر وقت دعاؤں میں مشغول رہنے والی ہے۔(انشاء اللہ تعالیٰ ) غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا میرا یہ فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ عنقریب ہی وقت آنے پر تمہارے سامنے ظاہر ہو جائے گا اور جب یہ حقیقت ہے کہ اگر دنیا کی ساری دولت بھی ہمارے پاس ہوتی ، دنیا کے سارے