انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 600
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۶۰۰ سورة الفرقان پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس غیریت کے پردہ کو صرف دعا ہی چاک کر سکتی ہے اگر تم دعاؤں کے ذریعہ اور میری محبت کے واسطہ سے میری مدد اور نصرت کے متلاشی ہو گے تو میں ایسے سامان پیدا کر دوں گا کہ ہمارے درمیان کوئی غیریت باقی نہیں رہے گی۔تب میری غیرت تمہارے لئے جوش میں آئے گی اور تم اپنے مقاصد کو حاصل کر سکو گے۔غرض اس مختصر سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑے وسیع مضامین بیان کئے ہیں۔جن کا اختصار کے ساتھ میں نے ذکر کیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَقَد كَذَّبْتُ یعنی تم لوگ دعا کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس جماعت میں شامل نہیں ہوتے جو صبح و شام دعاؤں میں مشغول رہنے والی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس بات کو جھٹلا رہے ہو کہ دعا کے بغیر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں نہ اعمال کا کوئی وزن ہے اور نہ کسی قوم یا کسی انسان کی کوئی قدر و منزلت ہے تم اس بات سے بھی انکاری ہو کہ تمہاری مدد کے لئے خدائے قیوم کے حکم ، منشا اور ارادہ کی ضرورت ہے تم اس بات کو بھی جھٹلا رہے ہو کہ انسان کامیابی صرف اسی صورت میں حاصل کر سکتا ہے جب اس کے مقصد کے حصول کے لئے آسمان سے ملائکہ کی افواج نازل ہوں اور وہ بنی نوع انسان کے دلوں میں ایک پاک تبدیلی پیدا کر دیں تم اس بات کو بھی جھٹلا رہے ہو کہ جب تک تم میں اور خدا تعالیٰ میں غیریت قائم رہے گی خدا تعالیٰ کی مددنازل نہیں ہوگی۔فَسَوْفَ يَكُونُ لِزاما چونکہ تم ان صداقتوں کو جھٹلا رہے ہو اس لئے تمہاری اس تکذیب اور انکار کے نتائج تمہارے ساتھ اور تمہاری نسلوں کے ساتھ ثابت اور دائم رہیں گے یعنی تمہیں اور تمہاری نسلوں کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔جب تک کہ تم اپنی اصلاح نہ کرلو۔لزام کے ایک معنی موت کے بھی ہیں ان معنوں کی رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ تم اس بنیادی صداقت کو جھٹلاتے ہو اس لئے یا درکھو فَسَوفَ يَكُونُ لِذا ما کہ جلد ہی تمہیں ہلاکت اور موت کا منہ دیکھنا پڑے گا۔پھر لِزَاماً کے معنى الْفَضْلُ فِي الْقَضِيّة (المنجد - باب اللام) کے بھی ہیں ان معنوں کی رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دنیا میں اس وقت دو گروہ پیدا ہو گئے ہیں ایک گروہ وہ ہے جو یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ الہی سلسلہ کی طرف منسوب ہونے والا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشا اور ارادہ یہ ہے کہ وہ ساری دنیا پر اسلام کو غالب کرے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کے