انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 599
۵۹۹ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ان معانی کی رو سے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عباً کے مفہوم والا سلوک تم سے کرے گا سوائے اس کے کہ تمہاری دعا اس کے جلوہ حسن و احسان کو جذب کر لے۔اب يَعْبَؤُا کے چار معنی بنتے ہیں۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب تک تم میرے حضور عاجزی اور انکساری کے ساتھ نہیں جھکو گے اور مجھ سے مدد طلب نہیں کرو گے اور میری قوت کا ملہ پر بھروسہ نہیں کرو گے اور یہ یقین پیدا نہیں کرو گے کہ تم میرے فضل کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے اس وقت تک میری نظر میں تمہاری کوئی قدر ومنزلت نہیں ہوگی اور تمہارے اعمال میری نظر میں کوئی وزن نہیں رکھیں گے۔يغبوا کے دوسرے معنوں کے مطابق اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ جب تم دعا سے کام نہیں لو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری بقا کے سامان نہیں کرے گا ما يُبقِيكُمْ لَوْلاَ دُعَاؤُكُمْ یعنی عاجزانہ دعاؤں کے بغیر تمہارے لئے قیومیت باری کے جلوے ظاہر نہیں ہوں گے۔تیسرے معنوں کی رو سے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبّی کی یہ تفسیر بنے گی کہ تمہیں جان لینا چاہیے کہ تمہاری تیاریاں اس وقت تک تمہیں کامیابی کا منہ نہیں دکھا سکیں گی جب تک کہ آسمان سے ملائکہ کی افواج کا نزول نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہیں بتا تا ہوں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میرے اذن اور حکم سے آسمان سے فرشتے اتریں اور تمہاری مدد کریں تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم دعا کے ذریعہ میری اس نعمت کو حاصل کرو۔کیونکہ عباتُ الْجَيْش کے معنی ہیں هَيَّاتُه یعنی لشکر کو پورے ساز و سامان کے ساتھ تیار کر دیا اور اسے حکم دیا کہ جس مقصد کے لئے اسے تیار کیا گیا ہے۔اس کے حصول کے لئے باہر نکلے۔چوتھے حمیت کے معنوں کی رو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے غیرت نہیں رکھے گا اور غیرت نہیں دکھائے گا جب تک کہ تم دعاؤں کے ذریعہ سے اس کی غیرت کو تلاش نہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے۔اب غیروں سے لڑائی کے معنی ہی کیا ہوئے خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۶ مطبوعہ ۱۹۰۲ء۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۷۹)