انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 587 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 587

۵۸۷ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اس جگہ اسلام کی عظیم شان بیان کی اور اسلام کے حسن کو دنیا کے سامنے رکھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے سمجھنے اور ہمیشہ اسے یادر کھنے کی توفیق عطا کرے کیونکہ انسان کو بعض دفعہ شیطان اس طرح بھی در غلاتا ہے که انسان خود گناہ کرتا ہے لیکن کہتا ہے کہ کیا کریں بس تقدیر تھی اس لئے گناہ ہو گیا۔خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ مقدر نہیں کیا کہ تم گناہ کرو بلکہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ مقدر کیا ہے کہ چاہو تو گناہ کرو چاہو تو گناہ سے بچو، چاہو تو نیکیاں کرو اور چاہو تو نیکیاں کرنے سے انکار کرو اور جب تم اپنے اختیار سے نیکیاں کرو گے تو خدا تعالیٰ دوڑتا ہوا آئے گا اور تمہیں اپنے دامن رحمت میں لپیٹ لے گا ور نہ تم خود ذمہ دار ہو اور خدا تعالیٰ پر یا کسی انسان پر اس کا الزام نہیں دھرا جاسکتا۔پس اپنی اس آزادی اور اس اختیار کی قدر کو پہچانو جو خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر اور قضا و قدر میں تمہارے لئے مہیا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کے لئے ہمیشہ کوشاں رہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور خدا سے ہمیں مقبول اعمال کی توفیق ملے اور وہ اپنی نعمتوں سے ہمیں نوازے۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۳۴۷ تا ۳۵۶) ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی حد بندی کر دی۔اب اس آیت سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ انسان کو اسی زمین پر رہنے کی ضرورت کیوں ہے اور وہ زمین سے باہر اپنی زندگی کیوں نہیں گزار سکتا اس لئے کہ اس زمینی حد بندی کو توڑنا انسان کے بس کا روگ نہیں مثلاً ہمارے پھیپھڑے ہیں۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہوا پیدا کر دی اور ساتھ ہی یہ حد بھی لگادی کہ ان انسانی پھیپھڑوں کی زندگی اس ہوا تک محدود ہے اس ہوا کے بغیر اور کسی چیز سے وہ زندگی حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ویسے اس میں شک نہیں کہ ہواؤں ہواؤں میں بھی فرق ہے۔اگر ہم بلندی پر چلے جائیں تو سانس پھولنے لگ جاتا ہے، آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔بہت ساری چیزیں ہیں کچھ ہمیں معلوم ہیں اور کچھ آگے چل کر انشاء اللہ معلوم ہوں گی۔پس فرمایا کہ ہم نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کو محدود یعنی ایک حد کے اندر مقید کر دیا ہے وہ اس سے باہر نہیں جا سکتی۔پھیپھڑے صرف اس ہوا سے آکسیجن لے سکتے ہیں جو اس زمین میں پیدا کی گئی ہے۔ہمارے جسم صرف اس پانی سے زندگی حاصل کر سکتے ہیں جو اس زمین میں پیدا کیا گیا ہے ہماری آنکھ صرف روشنی کی ان لہروں کو دیکھ سکتی ہے جو اہرمیں اس غرض کے لئے اس زمین میں بنائی گئی