انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 581 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 581

۵۸۱ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث کے جو آثار الصفات ظاہر ہوئے ہیں ان کے اندر پانی کو حیات کے قائم رکھنے کا ایک سبب بنایا گیا ہے۔قرآن شریف نے اس پر دوسری آیات میں روشنی ڈالی ہے۔پھر غذا ہے ہمارے علم میں ماریشس کی بعض بڑی تیز مرچیں بھی آئی رہی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ اختیار نہیں دیا کہ تمہارے معدے میں سوزش ہو اور پیچش کی وجہ سے انتڑیوں میں خراش آئی ہوئی ہو اور تم ماریشس کی ایک چھٹانک تیز مرچیں کھا لو اور تمہیں تکلیف نہ ہو تمہیں یہ اختیار نہیں ہے۔پس ہماری زندگی کے جو عام اصول ہیں ان میں یا ہمارے کھانے پینے کی جو چیزیں ہیں ان میں ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم غلط چیز استعمال کریں اور ہمیں صحیح نتیجہ مل جائے۔البتہ ہمیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ہم اپنی صحت کو قائم رکھنا چاہیں تو خدا تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق اور اس کی ہدایت کے مطابق متوازن غذا کھا ئیں کیونکہ غذا کا صرف ایک جزو نہیں ہے کہ صرف نشاستہ ہے یا صرف پروٹینز ( یعنی لحمیات) ہیں بلکہ بہت ساری چیزیں ہیں۔مثلاً گوشت کی قسم کی جو پروٹینز ہیں ان کی پھر آگے کئی قسمیں ہیں۔پروٹین ہمیں گوشت سے ملتی ہے، پروٹین ہمیں دودھ سے ملتی ہے، پروٹین ہمیں پنیر سے ملتی ہے، پروٹین ہمیں اُخروٹ سے اور دوسرے Nuts یعنی گریوں وغیرہ سے ملتی ہے مثلاً بادام پستہ اور درجنوں اس قسم کی چیزیں ہیں۔ڈاکٹر اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق پروٹین میں بھی ایک توازن قائم رکھنا چاہیے۔خدا کو تو وہ نہیں جانتے۔یہ فقرہ میں کہ رہا ہوں۔بہر حال ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ انسان نے اگر صحت مند رہنا ہے تو اس کو اپنی روزانہ کی پروٹین کی مقدار میں بھی آگے یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ اتنے فیصد میں گوشت سے حاصل کروں گا ( گوشت کی آگے پھر کئی قسمیں بن جاتی ہیں مچھلی وغیرہ لیکن اس کو میں چھوڑتا ہوں ) اور اتنے فیصد میں پنیر سے حاصل کروں گا اور اتنی دودھ سے لوں گا اور اتنی بادام وغیرہ سے لوں گا اور اتنی میں Legumes یعنی دالوں سے لوں گا۔دالوں میں سے کسی میں کم پروٹین ہوتی ہے اور کسی میں زیادہ۔بہر حال خدا تعالیٰ کی شان ہے اس نے بے تحاشا چیز میں بنادیں اور ہمیں کہا کہ وَضَعَ الْمِيزَانَ اَلَّا تَطْغَوا فِي الْمِيزَانِ (الرحمن : ۸-۹) کہ اس نے میزان پیدا کیا ہے اور تمہیں حکم یہ ہے کہ اس اصول میزان کو اس بیلنس (Balance) کو توڑنا نہیں۔اب انگریزوں نے بالکل اسی لفظ کا ترجمہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں Balanced Diet