انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 580
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۸۰ سورة الفرقان اس کو ہم قانونِ قدرت کہتے ہیں اور قضا و قدرکوان اسباب کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:۔خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدرَة تَقْدِيرًا ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اس کے لئے ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اندازوں سے تو کوئی چیز باہر نہیں جاسکتی لیکن خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اندازوں کے اندر رہتے ہوئے اور ان کے مطابق ہی زندگی Unfold ہوتی ہے اس کے خفیہ خواص ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ایک بالکل چھوٹے سے پیچ یا گٹھلی سے زندگی شروع ہوتی ہے اور پھر وہ نشو ونما پاتی ہے۔اسی گٹھلی کے اندر یہ انتظام ہے کہ ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں پتے اپنے اپنے وقت کے اوپر نکلتے ہیں مثلاً آم کے درخت کے سارے پتے ایک موسم میں یا ایک سال میں تو نہیں نکل آتے بلکہ کچھ جھڑتے ہیں اور کچھ نکلتے ہیں۔اس کے کچھ اسباب ہیں اور اس کی کوئی علل ہیں اور یہ ان کے معلول بن جاتے ہیں اور اسی طرح ایک سلسلہ چلتا ہے۔میں نے پچھلے خطبے میں دعا کے سلسلے میں ایک اور رنگ میں اس کے متعلق بتایا تھا۔آج میں جبر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔فَقَدرَة تَقْدِيرًا میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے اس اندازہ کی وجہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انسان صاحب اختیار نہیں رہا بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے اختیارات ایک اندازہ کے مطابق ہیں اور وہ اپنے اختیارات میں اس اندازہ سے باہر نہیں جاسکتا اور اس کو یہ اختیارات دینا بھی کہ اس دائرہ کے اندر انسان آزاد ہے یہ بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے۔جب خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کا اور انسانی خو کا اندازہ کیا تو اس کا نام اس نے تقدیر رکھا جس کا اس آیت میں ہمیں علم دیا گیا ہے اور اندازہ یہ ہے کہ فلاں حد تک انسان اپنے اختیارات برت سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔بڑی موٹی چیز ہے۔بچے بھی اس کو سمجھ جائیں گے کہ ہمیں یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم ہوا کے بغیر زندہ رہ سکیں۔ہم سانس روک لیں اور سانس لیس ہی نہ اور پھر بھی زندہ رہ سکیں یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔اسی طرح ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ اختیار نہیں دیا کہ ہم پانی نہ پئیں اور اپنی حیات کو قائم رکھ سکیں کیونکہ پانی کو ایک سبب اور علت بنایا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت میں اور اس