انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 579
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۷۹ سورة الفرقان بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفرقان آیت ٣ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے سلسلہ نظام قدرت میں قضا و قدر کو اسباب سے وابستہ کر دیا اور باندھ دیا ہے سلسلۂ نظام قدرت سے مراد وہ قوانین قدرت ہیں جو ہمیں اس کا ئنات میں جلوہ گر نظر آتے ہیں اور میں نے بتایا تھا کہ قوانین قدرت نہایت ہی حکیمانہ آثار صفات کا نام ہے۔گو یا سنت اللہ یا عادت اللہ ہی کو قوانینِ قدرت کہا جاتا ہے اور نظام قدرت کا جو سلسلہ ہے اس میں ہمیں اسباب کام کرتے نظر آتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے اپنی صفات کے آثار کو اس طرح پر ظاہر کیا ہے کہ اس نے کچھ اسباب مقرر کئے ہیں جن سے نتیجہ نکلتا ہے اور اِس کائنات میں بنیادی طور پر تدریج کا اصول قائم کیا گیا ہے مثلاً آم کی گٹھلی ہے وہ زمین میں لگائی جاتی ہے، اگر اس کو اسباب میسر آجائیں تو وہ زندہ رہتی ہے اور اگر اسباب میٹر نہ آئیں تو اس گٹھلی سے جو آم کا درخت پھوٹا ہے وہ اپنی ابتدائی عمر میں ہی مرجاتا ہے۔پھر اگر اسباب میستر آتے رہیں تو وہ درخت بڑھتا رہتا ہے، پھر اسباب میسر آتے رہیں تو ایک خاص عمر کو پہنچ کر جو تقدیر میں مقدر ہے اس کے شگوفے نکلتے ہیں، پھول آتے ہیں اور وہ پھل دینے لگ جاتا ہے پھر وہ ایک خاص عمر تک پھل دیتا رہتا ہے۔پھر ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں کہ اُس آم کی عمر ڈھلنے لگتی ہے اور پھل کم ہونے لگتا ہے اور ٹہنیوں میں خشکی کے آثار آنے لگتے ہیں اور زندگی کی طراوت کم ہونی شروع ہوتی ہے اور پتوں کا حسن ماند پڑنے لگ جاتا ہے اور پھر ایک عمر گزار کے وہ درخت مرجاتا ہے۔پس اس کا ئنات میں تدریج کا اصول اور اسباب مقرر ہیں اور