انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 573 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 573

۵۷۳ سورة النور تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث قیامت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء سے نور لیا یا لیں گے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے مدارج ان کو ملیں گے تو ایک لاکھ بیس ہزار آ گیا اور ایک کے اوپر اعتراض پیدا ہو گیا۔یہ جو خاتم الانبیاء کا مقام ہے اس کے متعلق آپ نے فرمایا یہ میرا استدلال نہیں ہے بلکہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبین تھا اور ابھی آدم پیدا نہیں ہوا تھا اس کا وجود مٹی کے ذروں میں گم ہوا ہوا تھا اور مٹی کے ذروں کے ساتھ رُل رہا تھا اور مجھے اس وقت خدا تعالیٰ نے خاتم الانبیاء بنادیا تھا یہ بات تو واضح ہے کہ خاتم الانبیاء کا مقام بشر کا مقام نہیں ہے خاتم الانبیاء کا مقام نور کا مقام ہے، سراج منیر کا مقام ہے جس طرح چاند ہے یا جو سورج کے گرد گھومنے والے ستارے ہیں وہ چاند اور وہ ستارے سورج سے ٹور لے کر اپنا نور ظاہر کرتے ہیں اسی طرح پہلوں نے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے نُور سے ٹور لیا اور وہ دنیا میں چمکے اور بعد میں آنے والوں نے بھی آپ ہی کے نُور سے ٹور لیا یعنی ہر قسم کا قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی حاصل ہوتا ہے صدیق بھی نہیں بن سکتے جب تک آپ سے نور نہ لیں اور شہید یا صالح بھی نہیں بن سکتے جب تک یہ ٹور نہ حاصل کریں ان سے بھی جو کم ہیں یعنی چھوٹے سے چھوٹا پیار بھی خدا سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اس نور کی جھلک ان کے اندر پیدا نہ ہو تب اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اپنی کچھ مشابہت دیکھ کر یعنی اس ٹور کی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کیا ہوتا ہے اپنے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے۔یہ ہے ہمارا ایمان اور یہ ہے ہمارا عقیدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق، کہ ایک ہی وقت میں آپ بشر بھی ہیں اور ٹور بھی ہیں۔نور کے متعلق میں نے ذرا تفصیل سے بتایا ہے اور بشر کے متعلق میں نے مختصر بتایا ہے لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اُسوہ بننے کے لئے سپر (super) کی ضرورت نہیں تھی۔کوئی بن ہی نہیں سکتا۔انسان انسان کے لئے اسوہ بن سکتا ہے اور بشر بشر کے لئے اُسوہ بن سکتا ہے۔فرشتے بشر کے لئے اسوہ نہیں بن سکتے۔تو خدا نے آپ کو بشر بنایا اور قرآن کریم نے آپ کی وفات کا ذکر کیا۔شعراء روئے کہ ہماری آنکھوں کا نور تو تھا۔شاعر بھٹک بھی جاتا ہے اور یہاں بھی شاعر بھٹکا کہ میری آنکھوں کا نور تو تھا۔اب میرے لئے دنیا اندھیر ہوگئی ہے یہ درست ہے کہ یہ جذبات کا اظہار ہے اور بڑا پیارا اظہار ہے لیکن آنکھوں کا نور تو ہم سے علیحدہ نہیں ہوا وہ تو جب سے دنیا بنی ہے وہ نور اس دنیا، اس کا ئنات کے ساتھ لگا ہوا ہے سب سے پہلا نبی جو دنیا کی طرف آیا اس نے بھی اس ٹور سے حصہ لیا وہ نُور دنیا