انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 572 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 572

۵۷۲ سورة النور تفسیر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے لئے بشر ہونے کے لحاظ سے آپ اسوہ ہیں اور یہ اُسوہ قیامت تک کے لئے ہے اور نور ہونے کے لحاظ سے لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک کا نعرہ لگایا گیا اور اس سارے جہان میں جہاں بھی ہمیں نور نظر آتا ہے انسان کے اندر یا دوسری مخلوق میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے طفیل نظر آتا ہے۔انبیاء نے بھی نور نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حاصل کیا اور ذہنوں نے نور فراست بھی وہیں سے حاصل کیا اور درختوں نے نور روئیدگی بھی وہیں سے حاصل کیا اور گھوڑے اور بیل اور یہ جو جانور ہیں انہوں نے نورِ خدمت بھی وہیں سے حاصل کیا اس لئے کہ یہ جو آپ کا مقام نور ہونے کا ہے اس کے نتیجے میں آپ کو لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَ فَلَاكَ ( موضوعات کبیر زیر حرف لام ) کہا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ئنات کا منصو بہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنایا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور اپنے بعد نور کامل کے طور پر پیدا کرنا چاہتا تھا اگر حضرت خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کامل نور انسانی یعنی انسان بھی اور کامل نور بھی ، نہ بنایا ہوتا تو یہ کائنات نہ بنائی جاتی اور اگر یہ کائنات نہ پیدا کی جاتی تو پھر نہ درختوں کا نور ہوتا ، نہ حسینوں کے حسن کا نور نہ کام کرنے کےحسن عمل کانور، نہ نبیوں کا نور۔یا مقربین الہی کا نور کوئی نور ہوتا ہی نہ۔تو اس کا ئنات کی تخلیق کا منصو بہ نُور ہے یہ نور ہے۔جس کے متعلق انسان کو کہا گیا کہ وہ تمہیں بلاتا ہے تم لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑ و کیونکہ وہ تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہیں زندگی دے اور اس کا ئنات میں جو سب سے حسین نور اور سب سے اچھا نور ہمیں نظر آتا ہے وہ زندگی کا نور ہے یعنی وہ نور جو الحی القیوم کے ساتھ وابستگی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا اور اس کے نتیجے میں یہ نور کا مقام ہے خاتم الانبیاء مقام کا نور کامل کا مقام ہے اور آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اگر ایک لاکھ بیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ بیس ہزار نبی نے اور اگر دوسروں کے نزدیک ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی نے اس ٹور سے نُور لیا اور خاتم الانبیاء کے نتیجہ میں آدم نبی بنے اور نوع نبی بنے اور موسیٰ نبی بنے اور عیسٹی نبی بنے اور ابراھیم علیہم السلام نبی بنے اگر اس کا ئنات میں یہ ٹور نہ ہوتا یعنی پلینڈ (planned) نہ ہوتا اس کا منصوبہ نہ ہوتا تو نہ آدم کی ضرورت تھی نہ نوح کی نہ ابراہیم کی نہ موسیٰ کی نہ عیسی علہیم السلام کی کسی کی بھی ضرورت نہیں تھی۔پہلوں نے بھی خاتم الانبیاء سے نور لیا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کیا اور بعد میں آنے والوں نے بھی