انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 571
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۷۱ سورة النور b وہی سب سے زیادہ سکھا بھی سکتا ہے اگر آپ علم کی سوا کا ئیاں فرض کریں تو جس شخص کو پچاس اکائی کا علم ہے وہ ساٹھ اکائی نہیں سکھا سکتا۔سو کی سوا کائی وہی سکھا سکتا ہے جو خود سوا کائی کا علم رکھتا ہو۔پس عَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : ۱۱۴) میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ بتایا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر علم کے میدان میں ( علم روحانی لیکن علم جسمانی کے اصول بھی اسی علم روحانی کے نیچے آتے ہیں ) جتنا فضل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا اتنا کسی اور پر نہیں ہوا۔جس قدر انسان کو علم روحانی کی ضرورت تھی وہ سب آپ کو سکھایا گیا اور آپ کے طفیل نوع انسانی اس قابل ہوئی کہ اگر وہ کوشش اور ہمت سے کام لے تو اپنے اپنے ظرف کے مطابق اپنی علمی استعدادوں کو کمال تک پہنچاسکتی ہے۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۶۴ تا ۶۶) یہ دو حقیقتیں ہیں جو ایک ہی وجود میں پائی جاتی ہیں اور نوع انسانی نے ان حقائق مقام محمدیت سے دو مختلف فائدے اٹھائے ہیں قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم (حم السجدۃ: ۷۱) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں یہ اعلان کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اُسوہ کی شکل میں بنی نوع انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے کیونکہ اگر یہ ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں بلکہ سپر مین (super man) ہیں اور بشر سے کوئی بلند و بالا چیز ہیں تو انسان کہتا کہ میں عاجز انسان ایک ایسی ہستی کی جو بشر سے کہیں بالا ہے، پیروی کیسے کر سکتا ہوں وہ میرے لئے اُسوہ کیسے بن سکتی ہے تو بشر کہہ کے آپ کو اسوہ بنایا اور نور کہہ کے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا کیونکہ کامل نور مظہر اتم الوہیت ہے ویسے اصل نور تو اللہ ہے اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ لیکن اللہ کے بعد مخلوق میں سے جو کامل نور کی حیثیت سے دنیا کی طرف آیا وہ خاتم الانبیاء ہے اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بشر ہونے کے لحاظ سے مختلف ہے بشر کے مقام کے نتیجہ میں آپ اُسوہ بنے اور نور ہونے کے لحاظ سے آپ ایک طرف مظہر اتم الوہیت بنے اور دوسری طرف لولاك لما خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ (موضوعات کبیر زیر حرف لام) کی صداقت انسان کے سامنے رکھی گئی نور ہونے کی حیثیت سے آدم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء سے نُور حاصل کیا لیکن بشر ہونے کے لحاظ سے چونکہ آپ نے اس دنیا میں زندگی بعد میں گذاری اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے لئے اُسوہ تو نہیں بن سکتے تھے۔آدم نے تو آپ کی شان دیکھی ہی نہیں ہزاروں سال کے بعد آپ کی پیدائش ہوئی لیکن بعد میں آنے والی اُمت