انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 569 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 569

عطا کرے۔۵۶۹ سورة النور تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اور جب خطا ہے تو صحیح کام کرنے کے لئے کوئی ذریعہ ہونا چاہیے اور چونکہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کے زوجین پیدا کئے ہیں اس لئے عقل کا بھی ایک اور ساتھی ہے۔جب یہ دونوں مل جاتے ہیں یعنی نور آسمانی عقل کے ساتھ ملتا ہے تو پھر عقل صحیح راستوں پر کام کرتی ہے اور صحیح نتائج پیدا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سمجھ عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کے صحیح نتائج نکالنے کے سامان (خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۱۲۲) پھر ہم جنہیں مقام محمدیہ کی معرفت ملی ہے ہم جانتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ایک عظیم نور کی حیثیت سے دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَ اَنْزَلْنَا إِلَيْكُم نُورًا مُّبِينًا (النساء : ۱۷۵) اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۃ النور کی آیت نمبر ۳۶ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ مَثَلُ نُورِہِ گمشکوۃ میں حضرت بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی مثال دی گئی ہے یعنی ایک تفسیر اس کی یہ ہے کہ اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ “ کا تو اللہ کے ساتھ تعلق ہے اور مَثَلُ نُورِهِ كَمِشکوۃ “ سے جس کا تعلق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر اتم ہے یعنی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ ایک طرف تو اپنی پیدائش اور خلق کے لحاظ سے ان قوتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عطا ہوئی تھیں آپ نور مجسم تھے اور اس نور مجسم پر جب آسمانوں سے اللہ تعالیٰ ( جو سر چشمہ ہے تمام انوار کا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار بھی اسی سرچشمہ سے نکلتے ہیں) کی وحی نازل ہوئی تو آپ نُورٌ عَلیٰ نُورِ ہو گئے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو خدا دا د نور تھے جو روحانی قوتوں اور استعدادوں کی شکل میں آپ کو عطا ہوئے تھے ان پر جب اللہ تعالیٰ کی وحی کا نُور نازل ہوا تو کامل ٹور کی صورت آپ بنی آدم کی طرف مبعوث ہوئے اور آدم سے لے کر ہر نبی نے آپ ہی کے نور نبوت سے اپنی شمع نبوت روشن کی۔پھر ہم لوگ جو حقیقت محمدیہ کو پہچانتے ہیں جانتے ہیں کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اخلاق فاضلہ کو اپنے وجود اور اُسوہ میں جمع کرنے والے تھے جس کی جھلک ہمیں گزشتہ تمام انبیاء میں مختلف طور پر نظر آتی ہے۔پس انبیائے ماسبق اور خدا تعالیٰ کے وہ پیارے جو بعد میں پیدا ہونے والے