انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 568
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث b ۵۶۸ سورة النور آیت ۳۶ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبْرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَ يَضْرِبُ اللهُ الأمثالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ خدا تعالیٰ جو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس نے عقل کے لئے ایک ٹور کے حصول کا راستہ بتایا تھا اور وہ یہ کہ اللہ کا قرب حاصل کرو۔اس کے ساتھ ذاتی تعلق کو قائم کرو۔اس سے محبت ذاتیہ کے نتیجہ میں اپنی زندگیوں پر ایک فنا وارد کرو۔ٹور کے حصول کی اس راہ کو انہوں نے اپنے اوپر بند کر لیا اور محض اپنی عقل پر بھروسہ کرتے ہوئے بھلائی کی بجائے دکھوں کے سامان پیدا کرلئے۔ہم لوگ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں ہمارے لئے قرآن کریم نے کھول کر بیان کر دیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے نور کو حاصل کرنے کے بعد عقل کا صحیح استعمال کیا جا سکتا ہے اور جس کے بغیر عقل صحیح نتائج پیدا نہیں کر سکتی اس لئے ہمیں قرآن کریم پر تدبر کرنا چاہیے، قرآن کریم کو غور سے پڑھنا چاہیے۔جن باتوں کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ انسان کی صحیح عقل اس نتیجہ پر پہنچے گی اس کو علی وجہ البصیرت سمجھنا چاہیے کہ واقعی وہ اس نتیجہ پر پہنچتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ماضی میں جائیں تو ایک وقت میں جب مسلمان اپنے عروج کو پہنچے ہوئے تھے تو قطع نظر اس کے کہ کوئی شخص عیسائی تھا یا مسلمان تھا، امت مسلمہ میں انسان کی عقل نے ہر ایک کی خوشحالی کے سامان پیدا کر دیئے تھے اور اتنا حسین معاشرہ پیدا کر دیا تھا کہ آج کی بہکی ہوئی عقل حیران ہو جاتی ہے یہ سوچ کر کہ اچھا! اس قسم کے سامان بھی عقل پیدا کرسکتی ہے۔غرض ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ محض عقل خطا سے بہر حال خالی نہیں خطا بھی اس کے ساتھ لگی ہوئی ہے