انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 566
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۶۶ سورة النور دو - فَلَا تُرَكُوا انفسکم پاک قرار دینا اسی کا حق ہے جو اس وقت سے علم رکھتا ہو جب ذراتِ زمین ابھی جسمانی روپ میں ظاہر نہیں ہوئے اور بچہ بن کے ماں کے پیٹ میں نہیں گئے اور اس وقت سے جانتا ہے کہ جب ماں بھی نہیں جانتی تھی کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ کیسا نکلے گا اور نہ اس بچے کو کوئی ہوش تھی اس لئے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ اپنی جانوں کو پاک مت قرار دو۔هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ اتَّقَى یہ فیصلہ کرنا کہ متقی کون ہے اسی ہستی کا کام ہے جو اس وقت سے زمین کے ذروں کو جانتا ہو جس نے جسم بننا ہے اور جو ماں کے رحم میں بچہ کروٹیں لے رہا ہے (اس میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے ایک وقت کے بعد ) صرف اللہ جانتا ہے۔نہ ماں جانتی ہے نہ باپ جانتا ہے نہ خود بچہ جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے آئندہ؟ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ صرف مجھے اختیار ہے اور مجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کا کام ہے کہ وہ کس شخص کو تقی قرار دے، کسے متقی قرار نہ دے۔اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کر دے جنون کی کسی حالت میں کہ میں بھی ان ذرات کے وقت سے جب ابھی جسم نہیں بنے تھے جانتا ہوں بعض لوگوں کو اور ماں کے پیٹ میں جب وہ کروٹیں لے رہے تھے اس وقت سے میں جانتا ہوں اور میں متقی قرار دیتا ہوں، یہ تو جنون ہوگا۔ہر آدمی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے اور تیرے حواس کو درست کرے۔پس اعلان یہ ہو گیا قرآن کریم میں کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے جو اس وقت سے تم کو جانتا ہے کہ تم زمین میں مادی ذرات کی شکل میں تھے۔پھر اس نے تمہیں اکٹھا کیا اور ایک جسم دیا۔انسان کو خلق کیا اور احسن صورت بنائی دوسری آیت میں ہے۔اس وقت سے جانتا ہے جب یہ احسن صورت بنانے کی Process شروع ہو چکی تھی ماں کے پیٹ میں۔وہ جانتا ہے کہ اس نے تمہیں کون سی صلاحیتیں اور قو تیں اخلاقی اور روحانی طور پر دیں وہ جانتا ہے کہ تم نے انہیں ضائع کر دیا یا ان کی صحیح نشو نما کر کے اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا۔یہ بات خدا کا پیار ملا یا نہیں ملا یہ تو خدا ہی بتا سکتا ہے نا۔اس واسطے فلا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) یہ حکم دے دیا۔اور سورہ نساء میں یہ فرمایا - اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ اَنْفُسَهُمْ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا